پاکستان
تحریک انصاف کی جانب سے اپنے طے شدہ لانگ مارچ کے فیصلے پر سختی سے کاربند رہنے کا
اعلان کیا گیا ہے اور اسے کسی صورت ملتوی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت پی ٹی آئی کی کور اور سیاسی کمیٹی
کے طویل اجلاس کے بعد سامنے آئی ہے۔ نجی
ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ نے حکومتی
نمائندوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکا کو بتایا
گیا کہ حکومت لانگ مارچ کے انعقاد پر انتہائی سخت مؤقف رکھتی ہے اور اس حوالے سے
کئی خدشات کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر
داخلہ محسن نقوی نے مذاکراتی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے خبردار کیا ہے کہ اگر 4
اکتوبر کو لانگ مارچ ہوا تو وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر سکتی
ہے۔ ذرائع کے مطابق اس دھمکی کی تائید ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے بھی
کی ہے۔ اجلاس کے دوران کچھ اراکین نے حکومتی دباؤ اور
ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لیے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز دی تھی، تاہم
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ کسی
صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے
مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کا اختیار صرف بانی چیئرمین پی ٹی آئی
کے پاس ہے اور وہ ہی اس بارے میں حتمی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اب
جو بھی فیصلہ ہوگا وہ پارٹی قائد کی ہدایت کے مطابق ہی آگے بڑھایا جائے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آج ہونے والے حکومتی
مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی کی طرف سے بانی چیئرمین سے ملاقات کی شرط رکھی جائے
گی۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ سیاسی بحران کا حل صرف بانی چیئرمین سے براہ راست
مشاورت اور بات چیت میں ہی ممکن ہے۔
پی ٹی آئی قیادت کا کہنا
ہے کہ وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تاہم ملک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے
تمام تر فیصلے بانی چیئرمین کی مرہونِ منت ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے
نفاذ کی دھمکی کے بعد ملک کی سیاسی فضا کافی کشیدہ دکھائی دیتی ہے۔