فرانس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد نوجوان
شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں 14 سالہ ایڈن بھی شامل ہیں، جن
کا جبڑا اور کئی دانت ٹوٹ گئے۔ ان کے خاندان اور وکیل کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک پولیس اہلکار نے قریب سے اس کے چہرے پر آنسو گیس کا گرینیڈ فائر کیا۔ مقامی پراسیکیوٹر کے مطابق ایڈن احتجاج سے کچھ فاصلے پر بیٹھے موبائل فون پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے کہ ایک پولیس اہلکار نے انہیں ڈنڈا مارا۔ اس پر ایڈن نے لات
ماری، جس کے بعد دوسرے اہلکار نے گرینیڈ لانچر سے فائر کیا۔ ایڈن کی وکیل ایلزا
مارسیل نے کہا، ''اہلکار نے ان کے چہرے کی جانب فائر کیا اور انہیں زخمی حالت میں زمین پر چھوڑ دیا، حتیٰ کہ ہنگامی امدادی
کارکنوں کو بھی نہیں بلایا گیا۔
‘‘ایڈن کے خاندان نے اقدام قتل کی شکایت درج کرائی ہے۔ متعلقہ
اہلکار کے خلاف باضابطہ تحقیقات جاری ہیں۔
یہ واقعہ ان 24 کیسز میں شامل ہے، جن کی پولیس کے داخلی نگرانی کے ادارے آئی جی پی این نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائیوں کے حوالے سے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے قانونی دستاویزات اور انٹرویوز کی مدد سے پولیس کی طرف سے طاقت کے بے جا استعمال سے زخمی ہونے کے 28 واقعات کی نشاندہی کی ہے، جن میں سے 15
زیرِ تفتیش ہیں۔ ان
واقعات میں ربڑ کی گولیوں، اسٹن گرینیڈز، آنسو گیس اور ڈنڈوں کا استعمال بھی شامل ہے۔ دو واقعات میں
افراد کی آنکھیں شدید زخمی ہوئیں یا وہ بینائی سے محروم ہو گئے، جبکہ شمالی فرانس کے شہر لانس میں ایک 15
سالہ لڑکے کا ہاتھ جسم سے جدا ہو گیا۔ وزیرِ داخلہ لوراں نونیز نے اس واقعے کی
تحقیقات تک اسٹن گرینیڈز کا استعمال روک دیا ہے۔
نونیز کے مطابق تقریباً 200 طلبہ زخمی ہوئے، تاہم ان کے بقول پولیس کارروائیاں اس کی شاذونادر ہی وجہ بنتی ہیں۔ انہوں
نے کہا، ''ہمارا بنیادی کردار یقیناً ہائی اسکول کے طلبہ کی حفاظت کرنا ہے۔‘‘ حکام کے مطابق احتجاج کے دوران تقریباً 700 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے، اسکولوں میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی کی گئی
اور 6,877 افراد گرفتار ہوئے، جن میں زیادہ تر کم عمر ہیں۔ پیرس کے نواحی علاقے ارژنتے میں 16 سالہ ایک طالب علم بھی پولیس کی فائرنگ کی وجہ سے بائیں آنکھ پر چوٹ لگنے کے باعث زخمی ہوا۔ اس کے وکیل صوفیا کربا کے مطابق خدشہ ہے کہ
اس کی بینائی مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ وکیل نے کہا، ''وہ غلط وقت پر غلط
جگہ موجود تھا۔ وہ زخمی ہے اور صدمے میں ہے۔‘‘ تاہم، یہ واضح نہیں کہ اسے
ربڑ کی گولی لگی یا کوئی اور چیز۔
فرانس میں انسانی حقوق کے کارکن اور بعض سیاست دان ربڑ
کی گولیوں اور دیگر 'کم مہلک‘ ہتھیاروں پر مستقل پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس یونینوں کا مؤقف ہے کہ پُرتشدد حالات میں نظم و
ضبط اور اہلکاروں کی حفاظت کے لیے یہ ہتھیار ضروری ہیں۔ سینٹ دُنی کے میئر بالی باگایوکو نے کہا، ''ہمیں ربڑ کی گولیوں کا
استعمال بند کرنا چاہیے اور زخمی طلبہ کی تعداد صفر تک لانے کا ہدف رکھنا چاہیے۔ اس سے کشیدگی کم کرنے میں مدد
ملے گی۔‘‘ دوسری جانب پولیس یونین کے نمائندے تھیری کلیئر نے
خبردار کیا کہ اگر طاقت کے استعمال کے درمیانی درجے کے ذرائع ختم کر دیے گئے تو پولیس کے پاس صرف مہلک طاقت باقی رہ
جائے گی۔ فرانسیسی
محقق سباستیاں روش کے مطابق صرف 12 دنوں میں چار کم عمر افراد کو ناقابل تلافی
چوٹیں پہنچنا غیر معمولی ہے۔ یہ واقعات صدر ایمانوئل ماکروں کی حکومت کے خلاف
عوامی بے چینی میں بھی اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ 2027ء کے انتخابات سے پہلے طلبہ کی تحریک حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج
بن گئی ہے۔