اقوام متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ جنوب مغربی یمن کے صوبے تعز میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد صرف دو روز کے دوران تقریباً 1790 یمنی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ یہ صورتحال حوثی گروہ کی فوجی کشیدگی اور اس کی جانب سے آبادی والے علاقوں اور بے گھر افراد کے کیمپوں پر مسلسل گولہ باری کے بعد پیدا ہوئی۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 3 ستمبر 2026 کی صبح سے تعز کے دونوں اضلاع مقبنہ اور جبل حبشی میں محاذی علاقوں کے ساتھ جھڑپیں اور توپ خانے سے گولہ باری دوبارہ شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں بے گھر افراد کی میزبانی کرنے والے مقامات اور قریبی دیہات سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق 3 ستمبر سے اب تک تقریباً 1790 خاندان بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔زیادہ تر بے گھر خاندان مقبنہ اور جبل حبشی کے اندر ہی ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہو رہے ہیں، جبکہ کچھ خاندان المعافر، الشمایتین، موزع اور ذباب کے اضلاع کا رخ کر رہے ہیں۔
بے گھر افراد کے مقامات خالی کرائے گئے
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بے گھر ہونے والے افراد کے بعض مکمل کیمپ اور مقامات خالی کروا لیے گئے ہیں، جن میں الحجب اور الراجحی کے مقامات بھی شامل ہیں۔ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لوگ ایک بار پھر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل گولہ باری کے باعث خاندانوں کے لیے نسبتاً محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہونا بھی مشکل ہو گیا ہے، جبکہ بعض خاندان اب بھی محاذی علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔دریں اثنا یمنی حکومت نے ہفتے کے روز بین الاقوامی اور علاقائی اداروں سے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل تعز اور الحدیدہ صوبوں میں حوثیوں کی جانب سے دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں اور فوجی کشیدگی کے باعث تیزی سے بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کے پیش نظر کی گئی ہے۔
یمن کی وزارتِ منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی فوجی کارروائیوں میں رہائشی علاقوں اور بے گھر افراد کے لیے قائم پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ان علاقوں میں صوبہ تعز کے المخا، مقبِنہ، جبل حبشی، موزع، المعافر، الوازعیہ اور ذوباب جبکہ صوبہ الحدیدہ کے الخوخہ اور حَیس کے اضلاع شامل ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور انہیں اپنے گھروں سے نکلنا پڑا۔ بیان میں کہا گیا کہ حملوں میں مسلسل اضافے کے باعث متاثرہ افراد کی مشکلات کم کرنے کے لیے فوری اور جامع انسانی امداد کی ضرورت ہے۔فوری ضروریات میں بے گھر خاندانوں کے لیے ہنگامی پناہ گاہوں کی فراہمی، غذائی پیکجز کی تقسیم، ادویات کی فراہمی اور زخمیوں کے علاج کے لیے فیلڈ ہسپتالوں کا فوری قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ بے گھر افراد کے کیمپوں میں بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صاف پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولیات بھی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ یمنی وزارتِ منصوبہ بندی نے تمام بین الاقوامی و اقوام متحدہ کے اداروں، انسانی امداد کے شراکت داروں اور عطیہ دہندگان سے اپیل کی کہ وہ فوری امدادی کارروائیاں شروع کریں اور یمنی حکومت و مقامی حکام کے ساتھ اپنی کوششوں میں مؤثر رابطہ قائم کریں۔ وزارت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان، طبی مواد اور طبی عملے کی محفوظ اور بلاشرط رسائی فوری طور پر یقینی بنائی جائے۔