غزہ
کی پٹی میں امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی کا اعلان کیے جانے کے ایک سال بعد بھی بے
گھر فلسطینیوں مشکلات کا شکا ہیں۔ بے گھر افراد کے کیمپوں میں رہنے رہنے والوں کا
کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے تقریباً روزانہ جاری ہیں اور جنگ بندی سے جس امن
کی امید تھی وہ اب تک پوری نہیں ہوسکی۔ اسرائیل کے حملے بدستور جاری ہیں اور اب
غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر اس کا کنڑول ہے، جبکہ جنگ بندی منصوبے کے تحت
تباہ حال فلسطینی علاقے کی تعمیرِ نو کا عمل تاحال شروع نہیں ہوسکا۔
غزہ شہر میں بے گھر ہونے والی خاتون فاطمہ نے کہا ’ہمارے حالات میں
تاحال بہتری نہیں آسکی، بلکہ سب کچھ مزید خراب ہوگیا ہے، وہ ہم سے جھوٹ بولتے
ہیں، یہ سب جھوٹ ہے۔‘انہوں نے کہا ’اب بھی لوگ ہلاک
ہو رہے ہیں، لوگ زخمی ہو رہے ہیں اور گولہ باری جاری ہے۔ ڈرونز کی مسلسل گونج کے
باعث ہمیں ایک لمحے کے لیے بھی سکون میسر نہیں۔‘ غزہ
سٹی کی سڑکوں پر تباہ شدہ گھروں کا ملبہ ہٹانے کے بعد بنائے گئے راستوں کے دونوں
جانب سفید خیموں کی قطاریں دکھائی دیتی ہیں، جبکہ دور کھڑی عمارتوں کی دیواروں میں
موجود کھڑکیاں تباہی کی علامت کے طور پر نظر آرہی ہیں۔
ایک اور بے گھر فلسطینی احمد جنید نے کہا کہ ’انہیں جنگ بندی کے بعد
اپنے گھر واپس جانے کی امید تھی۔‘51 سالہ احمد نے
پانی کے دو کین اپنے خیمے کی جانب لے جاتے ہوئے کہا ’ہم نے سوچا تھا کہ اب ہمیں
کچھ خوشیاں نصیب ہوں گی اور ہم اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں گے۔ لیکن اس کے بجائے
ہم خود کو پناہ گزین کیمپوں میں مشکلات کا سامنا کرتے اور عارضی بستروں پر سوتے
ہوئے دیکھ رہے ہیں۔‘ سات اکتوبر 2023 کو
اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران غزہ کے 20 لاکھ سے زائد
باشندوں میں سے تقریباً تمام افراد کم از کم ایک مرتبہ بے گھر ہوئے۔
اقوام متحدہ کے مطابق 2026 کے وسط تک غزہ میں کھڑی عمارتوں میں سے 82
فیصد عمارتیں یا تو تباہ ہو چکی تھیں یا انہیں نقصان پہنچا تھا۔ اس صورتِ حال کے
باعث بڑی تعداد میں فلسطینی اب بھی خیموں یا عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور
ہیں۔ یہاں کے گنجان آبادی اور صفائی کی ناقص صورتِ حال کے باعث مختلف بیماریوں کے
پھیلنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ غزہ کے جنوبی شہر خان یونس کے ایک ہسپتال میں
کام کرنے والے ڈاکٹر احمد شوان نے کہا کہ ’انہیں اب تک زمینی سطح پر جنگ بندی کے
مؤثر ہونے کے آثار دکھائی نہیں دیے۔‘
انہوں نے کہا، ’جنگ بندی کا اعلان ہوئے پورا ایک سال گزر چکا ہے،
لیکن یہ صرف کاغذوں تک محدود ہے۔‘
اسرائیل غزہ میں داخلے کے تمام راستوں پر کنٹرول رکھتا ہے اور اب بھی
محدود مقدار میں امداد کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس کے باعث
روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا کی قیمتیں عام فلسطینیوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ 47
سالہ اسماعیل حمودہ بھی ان افراد میں شامل ہیں جو بنیادی ضروریات
پوری کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ سے بے
گھر ہو کر غزہ شہر منتقل ہونے والے اسماعیل، جو پانچ بچوں کے والد ہیں نے بتایا کہ
شہریوں کو اب بھی پینے کے صاف پانی، خوراک اور مالی امداد کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں
نے کہا ’یہاں بے گھر افراد کے کیمپوں میں ہمیں امید تھی کہ جنگ بندی کے ایک سال
بعد حالات بہتر ہو جائیں گے اور زندگی میں آسانی آئے گی۔‘ اسماعیل
حمودہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’بدقسمتی سے صورتِ حال بتدریج مزید خراب ہو
رہی ہے اور ہم اب بھی بے گھر ہیں‘۔