بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں
انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف احتجاج کے خدشے کے پیش نظر حکام نے پیر کو 6
میٹرو اسٹیشن بند کر دیے، جبکہ شہر کی 20 سے زیادہ سڑکوں اور راستوں پر ٹریفک کی
پابندیاں اور متبادل راستوں کا انتظام کیا گیا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب
حزب اختلاف کی جماعتوں نے ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف سپریم کورٹ
تک مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاملے پر نئی دہلی میں کئی روز سے احتجاج جاری
ہے اور مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حزب
اختلاف اور نوجوانوں کی تحریک ’کاکروچ‘ کے حامیوں کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں
میں تبدیلیوں سے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو
فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کا عمل
گزشتہ سال شروع ہوا تھا، جس کے دوران 13 کروڑ سے زیادہ نام خارج کیے گئے۔ یہ تعداد
جاپان کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ خارج کیے گئے ناموں میں وفات پا جانے والے
افراد، دوسری جگہ منتقل ہونے والے ووٹرز اور ایسے افراد شامل ہیں جن کا سراغ نہیں
مل سکا۔ بھارتی الیکشن کمیشن نے کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا جانبداری کے الزامات
مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلطی سے خارج ہونے والے ووٹرز دوبارہ اندراج کرا سکتے
ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی نے حزب اختلاف پر جائز انتخابی عمل کو بلاجواز متنازع
بنانے اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔
پولیس نے ہفتے اور اتوار کو نئی
دہلی میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا تھا۔ حراست
میں لیے جانے والوں میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے رہنما بھی شامل تھے۔ نوجوانوں کی
تحریک کے حامی انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کے خلاف مارچ کرنا چاہتے تھے، تاہم
ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے باعث وسطی نئی دہلی میں نقل و حرکت محدود کر
دی گئی تھی۔ پیر کو بھی سیکیورٹی انتظامات سخت رکھے گئے۔ حکام نے 6 میٹرو اسٹیشنوں
کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر بند کرنے کے ساتھ 20 سے زیادہ مقامات پر ٹریفک کا رخ
تبدیل کیا۔
بھارت کی مرکزی حزب اختلاف جماعت
کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ تک مارچ کرکے چیف جسٹس کو یادداشت پیش
کرے گی۔ جماعت کا مطالبہ ہے کہ انتخابی عمل میں مبینہ ’ووٹ چوری‘ کا سلسلہ روکا
جائے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار مستعفی ہوں۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ نوجوان، حزب اختلاف کی تمام
جماعتیں، شہری تنظیمیں اور جمہوریت و بھارتی آئین پر یقین رکھنے والے افراد ان کے
ساتھ مارچ میں شریک ہوں گے۔
کانگریس کے ایک ذریعے کے مطابق، چیف
جسٹس سوریا کانت نے راہول گاندھی اور کانگریسی وفد کی ملاقات کی درخواست ای میل کے
ذریعے مسترد کر دی۔ چیف جسٹس نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ معاملہ پہلے ہی عدالت
میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے کانگریس رہنماؤں کو ملاقات کے بجائے قانونی طریقۂ کار
اختیار کرنا چاہیے اور اپنی شکایات عدالتی کارروائی کے ذریعے پیش کرنی چاہییں۔
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی نے
اعلان کیا ہے کہ اس کے رہنما نئی دہلی پولیس سے ملاقات کرکے پُرامن احتجاج کے لیے
تاریخ مقرر کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ جماعت نے خبردار کیا کہ اگر 24 گھنٹے کے اندر
احتجاج کی تاریخ نہیں دی گئی تو وہ نئے مظاہروں کی کال دے سکتی ہے۔
بھارتی الیکشن کمیشن کے اعداد و
شمار کے مطابق، ووٹر فہرستوں کی تصدیقی کارروائی کے دوران تقریباً 13 کروڑ نام
خارج کیے گئے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کی تفصیل کے مطابق تقریباً 2 کروڑ 80
لاکھ افراد وفات پا چکے تھے۔ تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ افراد دوسری جگہ منتقل ہو چکے
تھے۔ اور تقریباً 3 کروڑ افراد کا سراغ نہیں مل سکا۔ یہ اعداد و شمار انتخابی
فہرستوں سے نام خارج کرنے کی وجوہات سے متعلق الیکشن کمیشن کے ریکارڈ پر مبنی ہیں۔
تاہم یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت
اختیار کر گیا جب بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ نے گزشتہ ماہ رپورٹ کیا کہ چیف
الیکشن کمشنر کے دو نائبین نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی، ووٹرز کے اندراج کے
طریقۂ کار اور ڈیجیٹل نظام سے متعلق کئی خدشات داخلی سطح پر اٹھائے تھے۔ اس رپورٹ
کے بعد انتخابی عمل کی شفافیت پر بحث تیز ہو گئی اور حزب اختلاف نے چیف الیکشن
کمشنر کے استعفے کا مطالبہ مزید شدت سے اٹھایا۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کا الزام ہے
کہ ووٹر فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے عمل میں مسلمان اور دیگر اقلیتیں غیر
متناسب طور پر متاثر ہوئی ہیں، کیونکہ ان طبقات کے ووٹ بی جے پی کے حق میں جانے کا
امکان کم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم بھارتی الیکشن کمیشن اور بی جے پی دونوں نے اس الزام
کو مسترد کیا ہے۔ نوجوانوں کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ حالیہ مہینوں میں سرکاری
اسکولوں کی سہولتوں، روزگار اور دیگر عوامی مسائل پر احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے
نمایاں ہوئی ہے۔ انتخابی فہرستوں کا تنازع اس تحریک اور مودی حکومت کے درمیان جاری
کشیدگی کا ایک نیا مرکز بن گیا ہے۔ دوسری جانب نئی دہلی میں میٹرو اسٹیشنوں کی
بندش، ٹریفک پابندیوں اور پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے باعث شہریوں کی
آمدورفت متاثر ہوئی، جبکہ ممکنہ نئے احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات برقرار
رکھے گئے۔