Environment
آواز جو روح تک اتر جائے: شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان کی آج 78ویں سالگرہ
پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان کی آج 78ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔
- Reading time
- 2 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 13 اکتوبر، 2026، 9:55 AM

Environment
پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان کی آج 78ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان کی آج 78ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔
نصرت فتح علی خان 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد (اس وقت کے لائل پور) میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جس کی قوالی کی روایت صدیوں پرانی تھی۔ ان کے والد استاد فتح علی خان خود نامور قوال تھے۔ والد کے انتقال کے بعد نصرت نے کم عمری میں ہی خاندانی قوال پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی اور صوفیانہ کلام کو ایک نئی پہچان دی۔ ان کے بھائی فرخ فتح علی خان بھی ان کے ہم نواؤں میں شامل رہے جبکہ راحت فتح علی خان نے بھی نصرت فتح علی خان کی شاگردی میں ہی اپنی گائیکی کا آغاز کیا۔ ان کی بلند، گونج دار آواز، لمبی تانوں اور سُروں پر گرفت نے قوالی کو سرحدوں سے نکال کر عالمی اسٹیج تک پہنچایا۔
نصرت فتح علی خان کے کلام میں صوفیانہ رنگ سب سے نمایاں ہے، جس میں اللہ ہو اللہ ہو، دما دم مست قلندر، علی مولا علی مولا اور یادِ نبی ﷺ جیسی قوالیاں شامل ہیں، جبکہ امیر خسرو کا کلام آج رنگ ہے بھی ان کی پہچان ہے۔ مقبول گیتوں اور غزلوں میں میرا پیا گھر آیا، تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی، آفرین آفرین، یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے، سانسوں کی مالا پہ اورکنّا سوہنا کو سب سے زیادہ پسند کیا گیا۔
عالمی سطح پر مائیکل بروک کے ساتھ ان کا البم اور فلم ڈیڈ مین واکنگ اور بینڈٹ کوئین کی موسیقی ان کی عالمی شہرت کا اہم حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ان گنت لالی وڈ اور بالی وڈ فلموں کے لیے بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔ انہوں نے پیٹر گیبریل اور ایڈی ویڈر جیسے مغربی فنکاروں کے ساتھ کام کیا، فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی، اور دنیا بھر میں کنسرٹس کیے۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔16 اگست 1997 کو لندن میں صرف 48 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا، مگر ان کی آواز آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہے۔