عالمی جوہری توانائی
ایجنسی (آئی اے ای اے) نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے مرکزی یونگ بیون
جوہری کمپلیکس میں یورینیئم افزودگی کے لیے ایک نئی تنصیب تعمیر کی ہے جس میں 28
تک سینٹری فیوج کاسکیڈز نصب کیے جا سکتے ہیں، جبکہ کانگ سون کی تنصیب کے توسیع شدہ
حصے کو بھی فعال کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر رافائل گروسی
نے اس پیشرفت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی قرار
دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چونکہ 2009 سے ایجنسی کے انسپکٹرز کو شمالی
کوریا میں داخلے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے یہ رپورٹیں سیٹلائٹ تصاویر پر مبنی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دنیا کا غریب ترین ملک ہونے کے باوجود کم جونگ اُن کا ملک خفیہ
جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے پر سالانہ کروڑوں ڈالر خرچ کر رہا ہے، اور شمالی کوریا اب
تک 6 جوہری تجربات کرنے کے بعد خود کو باضابطہ طور پر جوہری طاقت قرار دے چکا ہے۔