چین میں 2026
کے پہلے نو مہینوں کے دوران شادیوں کے اندراج میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس
نے پہلے سے گرتی ہوئی شرح پیدائش اور بدتر ہوتے آبادیاتی بحران کے بارے میں نئے
خدشات پیدا کر دیئے ہیں۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، چینی وزارتِ
شہری امور کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں جنوری اور ستمبر کے درمیان 46 لاکھ 48
ہزار شادیاں رجسٹر ہوئیں۔ اس تعداد میں گزشتہ سال کے اِسی عرصے کے مقابلے 5 لاکھ 4
ہزار، یعنی 9.8 فیصد کی کمی آئی ہے۔
رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ ان مہینوں کے دوران تقریباً 20
لاکھ 80۰
ہزار جوڑوں میں طلاق بھی ہوئی۔ شادیوں کی شرح میں اس گراوٹ کو چینی معاشرے کیلئے
ایک بڑے دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شادیوں کی رجسٹریشن میں 2025 کے دوران عارضی طور پر کچھ بہتری دیکھی گئی
تھی۔
شادیوں میں کمی کا نتیجہ عام طور پر پیدائش میں کمی کی صورت میں
ظاہر ہوتا ہے اور چین پہلے ہی سکڑتی ہوئی آبادی اور عمر رسیدہ معاشرے کے مسائل سے
نبرد آزما ہے۔ نیشنل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ملک میں 2025
میں 79 لاکھ 20 ہزار پیدائشیں ریکارڈ کی گئیں۔ یہ تعداد 2024ء کی ۹۵
لاکھ ۴۰ ہزار کی تعداد کے مقابلے ۱۷ فیصد کم تھیں۔ چین میں شرح پیدائش
گر کر ۶۳ء۵ فی ہزار افراد رہ گئی، جو 1949
میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے اب تک کی کم ترین سطح ہے۔ 2025 میں چین کی مجموعی آبادی میں بھی 33لاکھ 90
ہزار کی کمی آئی اور یہ گھٹ کر تقریباً 405۱ بلین (ایک ارب 40
کروڑ پ50 لاکھ) رہ گئی۔ یہ
لگاتار چوتھا سال ہے جس میں چین کی آبادی میں گراوٹ آئی ہے۔
چین میں آبادی کا مستقبل میں مزید کم ہونے کا امکان ہے۔ رائٹرز نے
رپورٹ کیا کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے تولیدی عمر کے گروپ کے طور پر دیکھی جانے
والی 15 سے 49سال کی خواتین کی تعداد رواں صدی کے اختتام تک دو
تہائی سے زیادہ کم ہو کر 10
کروڑ سے نیچے آ سکتی ہے۔ حکومت
نے جوڑوں کو شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کیلئے بچوں کی دیکھ بھال
کے وظائف (سبسڈیز)، قبل از اسکول بچوں کی دیکھ بھال میں وسیع تر معاونت اور دیگر
مراعات متعارف کرائی ہیں۔ تاہم، زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور شادی و
خاندانی زندگی کے حوالے سے بدلتے ہوئے رویے کے چلتے ان کوششوں کے اثرات محدود ہیں۔