اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے ایک بیان میں کہا کہ سوڈان میں ایک
کروڑ 54 لاکھ
افراد کو فوری طور پر پناہ گاہ کی ضرورت ہے کیونکہ فنڈنگ کی کمی کےسبب امدادمتاثر ہو
رہی ہے، یو این ایچ سی آر، آئی او ایم نے خبردار کیا کہ فنڈنگ کی شدید کمی کے درمیان
ضرورت مندوں میں سے صرف10 فیصد کو امداد کے لیے ترجیح دی جا سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی دو ایجنسیوں نے جمعہ کو خبردار کیا کہ سوڈان میں
ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ 54 لاکھ افراد کو فوری طور پر ہنگامی پناہ گاہ اور ضروری گھریلو سامان کی ضرورت
ہے، لیکن فنڈنگ کی شدید کمی کے سبب لاکھوں افراد کی امداد کو روکنے کا خطرہ ہے۔اقوام
متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) اور بین الاقوامی تنظیم برائے
ہجرت (آئی او ایم) نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے
پاس ضرورت مندوں میں سے صرف۱10 فیصد کی امداد کو ترجیح دینے
کے لیے وسائل ہیں۔ایجنسیوں نے کہا کہ اب تک صرف936 افراد کو امداد ملی ہے، جس سے لاکھوں افراد مناسب پناہ گاہ یا بنیادی ضروریات
سے محروم رہ گئے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ ہنگامی پناہ گاہوں کا ذخیرہ خطرناک حد
تک کم ہو رہا ہے اور فوری فنڈنگ کے بغیر، مزید بے گھر خاندانوں کو سخت موسم، عدم تحفظ
اور تشدد اور استحصال کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بیان کے مطابق، سوڈان کو دنیا کے سب سے بڑے بے گھری کے بحران کا
سامنا ہے، جس میں تقریباً 86 لاکھ افراد اندرونی طور پر بے گھر ہیں اور46 لاکھ سے زیادہ پڑوسی ممالک میں فرار ہو چکے ہیں۔
دریں اثنا،25لاکھ
سے زیادہ افراد اپنے آبائی علاقوں میں واپس آ چکے ہیں، جن میں سے بہت سے اپنے گھر،
بنیادی ڈھانچہ اور ضروری خدمات سے محروم ہوچکے ہیں۔ایجنسیوں نے کہا کہ جاری لڑائی،
عدم تحفظ اور ڈرون حملے مزید بے گھری کو بڑھا رہے ہیں اور انسانی ہمدردی کی
کارروائیوں کو محدود کر رہے ہیں۔بعد ازاں سوڈان کے2026
انسانی ضروریات اور ردعمل کے منصوبے کو33 اعشاریہ 7 ملین ضرورت مندوں میں سے20 اعشاریہ ۴؍ ملین افراد
کی مدد کے لیے۲؍ اعشاریہ 9 بلین ڈالر کی ضرورت ہے، لیکن مطلوبہ فنڈنگ کا صرف تقریباً47 فیصد موصول ہوا ہے۔تاہم یو
این ایچ سی آر اور آئی او ایم نے ہنگامی پناہ گاہوں کی فراہمی کو برقرار رکھنے اور
انسانی حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے فوری اور لچکدار فنڈنگ کا مطالبہ کیا۔ ذہن نشین رہے کہ سوڈان اپریل2023 سے فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسیز(آر
ایس ایف) کے درمیان مسلح تنازع میں گھرا ہوا ہے، جس میں 10ویں
ہزار افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔