برطانوی شاہی خاندان کی بہو اور ڈچز آف سسیکس میگھن مارکل کے والد
تھامس مارکل بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد رکھنے کے الزام میں امریکی عدالت
میں پیش ہوگئے۔ 82 سالہ تھامس مارکل کو وفاقی حکام نے گرفتار کیا تھا، جب کہ عدالت
نے انہیں فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ تک محدود رہنے اور الیکٹرانک نگرانی کا حکم
دیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق تھامس مارکل پر بچوں کی قابل
اعتراض تصاویر رکھنے کا ایک وفاقی الزام عائد کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے
مطابق ایف بی آئی نے لاس اینجلس کے علاقے میں ان کے زیر استعمال 2 اسٹوریج یونٹس
کی تلاشی کے بعد انہیں گرفتار کیا۔ یہ یونٹس انہوں نے تقریباً 20 برس سے کرائے پر
لے رکھے تھے۔
عدالت میں سماعت تقریباً 30 منٹ جاری رہی، جہاں وفاقی استغاثہ نے
الزامات کی تفصیلات پیش کیں۔ تھامس مارکل کو وہیل چیئر پر عدالت لایا گیا اور 2
امریکی مارشل ان کے ہمراہ تھے۔ سماعت کے دوران ان سے جرم قبول کرنے یا مسترد کرنے
کا بیان نہیں لیا گیا، جب کہ اگلی عدالتی کارروائی کی تاریخ کیلیفورنیا میں مقرر
کی جائے گی۔ ایف بی آئی کے مطابق اسٹوریج یونٹس سے تقریباً 78 اشیا قبضے میں لی
گئیں، جن میں فلمی نیگیٹو، سلائیڈز اور کتابیں شامل ہیں۔ حکام کا الزام ہے کہ ان
میں بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد موجود تھا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ 2
تصاویر میں موجود شخص کی شناخت تھامس مارکل کے طور پر کی گئی ہے، تاہم ان الزامات
کا عدالتی فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ بچوں کو نقصان پہنچانے
والوں کے خلاف ادارہ دستیاب تمام وسائل استعمال کرے گا۔ تھامس مارکل اس سے قبل ان
الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’بیمار ذہنوں کے جھوٹے الزامات‘ قرار دے چکے
ہیں۔ ان کی بیٹی میگھن مارکل اور ان کے شوہر شہزادہ ہیری نے گرفتاری پر کوئی تبصرہ
نہیں کیا۔ تاہم میگھن نے گزشتہ ماہ سامنے آنے والے الزامات پر افسوس کا اظہار کرتے
ہوئے کہا تھا کہ ان کی ہمدردیاں کسی بھی ممکنہ متاثرہ بچے کے ساتھ ہیں۔