ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کے
عام انتخابات کے لیے ہفتے کے روز پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا۔ ایک کڑی اور سنسنی خیز
انتخابی مہم کے بعد دونوں بڑی حریف جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے اور کسی
کے پاس بھی حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت کی سیدھی راہ دکھائی نہیں دے رہی۔ نیشنل
پارٹی کی زیر قیادت برسرِ اقتدار قدامت پسند حکومت، لیبر پارٹی کی سربراہی میں
قائم بائیں بازو کے اتحاد کے خلاف دوسری مدتِ اقتدار کی خواہاں ہے۔
پولنگ کے روز سامنے آنے
والے جائزوں کے مطابق نہ تو نیشنل پارٹی کے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن (Christopher Luxon) اور نہ ہی لیبر کے اپوزیشن
لیڈر کرس ہپکنز (Chris Hipkins) فتح کے لیے پر اعتماد پوزیشن میں ہیں، جس کے پیش
نظر دونوں نظریاتی کناروں پر موجود چھوٹی جماعتوں کے پاس اگلی حکومت کی تشکیل کا
فیصلہ کن اختیار ہونے کی توقع ہے۔ انتخابات کے لیے ووٹنگ کا آغاز 26 اکتوبر کو ہوا
تھا جو ہفتے کی شام 7 بجے اختتام پذیر ہو گیا۔ نیوزی لینڈ کے الیکشن کمیشن کا مقصد
پولنگ ختم ہونے کے 30 منٹ کے اندر ابتدائی 5 فیصد ووٹوں کی گنتی جاری کرنا تھا۔
ہفتہ کی رات کے اختتام تک
95 فیصد ووٹوں کے نتائج موصول ہونے کی توقع ہے، جبکہ بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے
ووٹوں سمیت حتمی اور تصدیق شدہ نتائج 27 نومبر کو جاری کیے جائیں گے۔ لکسن (Christopher Luxon) جنہوں نے 2020 میں اقتدار
سنبھالا تھا، رواں سال اپنی ہی جماعت کے ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے دو بار عدم
اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنے کے بعد دوسری مدتِ وزارتِ عظمیٰ کے لیے سخت جدوجہد کر
رہے ہیں۔ دوسری جانب، ہپکنز تین سال قبل عبرتناک شکست کے بعد دوبارہ اقتدار حاصل
کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
بحر الکاہل کے جنوب میں
56 لاکھ کی آبادی والے اس ملک میں تقریباً 38 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔
نیوزی لینڈ کا نظامِ حکومت یک ایوانی ہے اور وہاں کوئی صوبے یا ریاستیں نہیں ہیں۔
تین سال کی مدت کے لیے منتخب ہونے والی مرکزی حکومت ہی ملک کی پالیسیوں اور سمت کا
حتمی اختیار رکھتی ہے۔ انتخابی دن سے قبل، تجزیہ کاروں کو دائیں بازو کے سہ جماعتی
اتحاد یا بائیں بازو کے سہ جماعتی اتحاد—کسی کے لیے بھی سادہ اکثریت حاصل کرنے کی
آسان راہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
یہ غیریقینی صورتحال
دونوں بڑی جماعتوں کے حوالے سے ووٹرز کے عدم اطمینان کی عکاس ہو سکتی ہے، کیونکہ
بین الاقوامی جھٹکوں کی زد میں آنے کے بعد نیوزی لینڈ کی تجارت پر منحصر معیشت
مسلسل مسائل کا شکار ہے۔ نیوزی لینڈ میں عوام براہِ راست وزیر اعظم کا انتخاب نہیں
کرتے، بلکہ وہ دو ووٹ ڈالتے ہیں۔ ایک اپنی پسندیدہ جماعت کے لیے اور دوسرا اپنے
مقامی حلقے کے نمائندے کے لیے۔ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعتی اتحاد کو
پارلیمنٹ کی نصف سے زائد نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
کل نشستوں کا حتمی تعین
انتخابی رات کے مخصوص انتخابی فارمولے اور سرکاری حساب کتاب کے مطابق کیا جاتا ہے۔
نیشنل پارٹی نے 2023 میں دائیں بازو کی دو دیگر جماعتوں پاپولسٹ ’نیوزی لینڈ فرسٹ‘
اور لبرٹیرین ’ایکٹ‘ کے ساتھ مل کر ملک کی جدید تاریخ کی سب سے قدامت پسند حکومت
قائم کی تھی۔ 2020 میں سیاست میں آنے والے سابق بزنس ایگزیکٹو لکسن کے ناقدین،
حکومت میں شامل چھوٹی جماعتوں کے منجھے ہوئے رہنماؤں کے مقابلے میں ان کی سیاسی بے
تجربہ کاری پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ ماضی
میں انتخابی تعطل کی صورت میں دونوں بڑے بلاکس ایسی چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملانے
کی دوڑ میں لگ جاتے رہے ہیں جن کے ہاتھ میں اقتدار کا توازن ہو۔ حالیہ جائزوں سے
معلوم ہوتا ہے کہ اگر ’دی اپارچونیٹی پارٹی‘ پہلی بار پارلیمنٹ میں جگہ بنانے میں
کامیاب ہو جاتی ہے تو موجودہ انتخابات میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
اگرچہ لکسن (Christopher Luxon) نے ’اپارچونیٹی پارٹی‘ کے ساتھ حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کر دیا
ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات کے بعد وونگ ہی اقتدار تک پہنچنے
کا واحد راستہ ثابت ہوئیں، تو دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین کے لیے ان سے بات چیت
کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔