امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط
مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد اپنی انتظامیہ میں اہم تبدیلی
کرتے ہوئے اپنے دیرینہ ساتھی اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کر
دیا ہے۔ ملر کو امریکا میں تارکین وطن کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر پالیسیوں
کا اہم منصوبہ ساز سمجھا جاتا ہے۔ یہ تبدیلی
ایسے وقت میں کی گئی ہے جب وسط مدتی انتخابات میں شکست کے نتیجے میں ریپبلکن پارٹی
کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھو چکی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان اور
سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی برتری کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو قانون سازی میں مشکلات کے
ساتھ دیگر معاملات پر کانگریس کی تحقیقات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسٹیفن ملر موجودہ چیف آف اسٹاف
سوزی وائلز کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے فیصلے کا
اعلان کرتے ہوئے ملر کو اپنے قابل اعتماد مشیروں میں سے ایک قرار دیا اور سوزی
وائلز کی خدمات کو بھی سراہا۔ ان کی تقرری پیر سے مؤثر ہوگی۔ رائٹرز نے وائٹ ہاؤس
کے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسٹیفن ملر کی تقرری سے ظاہر ہوتا ہے
کہ ٹرمپ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے بلکہ وہ اپنے وفادار
ساتھیوں کو مزید اہم ذمہ داریاں دے رہے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ لاکھوں امریکی
ووٹرز کی جانب سے ٹرمپ کی ملکی اور خارجہ پالیسیوں کو مسترد کیے جانے کے باوجود
صدر اپنا مؤقف تبدیل نہیں کر رہے۔
ٹرمپ نے رواں ہفتے کہا تھا کہ وہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کے ساتھ مل
کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ملر جیسے سخت گیر مؤقف رکھنے والے شخص کو چیف آف
اسٹاف مقرر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر امیگریشن سمیت دیگر معاملات پر اپنا سخت
مؤقف برقرار رکھ سکتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ٹرمپ انتخابی مہم سے قبل اپنی سیاسی
اور میڈیا ٹیم کی کارکردگی سے ناخوش تھے۔ انتخابات میں شکست اور عوامی مقبولیت میں
کمی کے بعد انہوں نے وائٹ ہاؤس کو مزید جارحانہ انداز میں کام کرنے کی ضرورت پر
بھی زور دیا تھا۔
اسٹیفن ملر کون
ہیں؟
41 سالہ اسٹیفن ملر ٹرمپ کے دیرینہ ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور
ان چند افراد میں شامل ہیں جنہوں نے ٹرمپ کی پہلی اور دوسری دونوں صدارتی مدت میں
ان کے ساتھ کام کیا۔ 2025 میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ملر نے ڈپٹی چیف آف
اسٹاف کی ذمہ داری سنبھالی تھی تاہم ملکی پالیسیوں کے بیشتر اہم معاملات میں ان کا
اثر و رسوخ ان کے عہدے سے کہیں زیادہ رہا۔ ملر کو خاص طور پر ٹرمپ کی سخت گیر
امیگریشن پالیسیوں کا اہم منصوبہ ساز سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے غیر قانونی تارکین
وطن کے خلاف کارروائیوں کے لیے روزانہ 3 ہزار افراد کی گرفتاری کا ہدف مقرر کیا
تھا۔
اس
ہدف کو پورا کرنے کے لیے امریکی امیگریشن اہلکاروں نے ملک بھر میں کارروائیاں تیز
کیں جن میں ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا
اور جو کئی دہائیوں سے امریکا میں مقیم تھے۔ تاہم ان پالیسیوں کو امریکی عوام کی
اکثریت کی حمایت حاصل نہیں۔ رائٹرز اور اِپسوس کے حالیہ سروے کے مطابق صرف 36 فیصد
امریکی ان کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 54 فیصد نے ان کی مخالفت کی۔ امریکی
ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے نگرانی و حکومتی اصلاحات کے سینیئر ڈیموکریٹ رکن
رابرٹ گارشیا نے کہا ہے کہ ان کی جماعت ملر کی امیگریشن پالیسیوں کی تحقیقات کرے
گی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیفن ملر کو اپنے دفاع کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کر لینی
چاہئیں۔ ملر ٹرمپ کی جانب سے وفاقی حکومت کے نظام میں تبدیلی کی مہم میں بھی پیش
پیش رہے جس کے نتیجے میں 2025 کے دوران ہزاروں سرکاری ملازمین کو برطرف کیا گیا۔
اس کے علاوہ جامعات، تنوع کے فروغ کے پروگراموں اور دیگر اداروں کے خلاف انتظامیہ
کی کارروائیوں میں بھی ان کا اہم کردار رہا۔