دنیا
بھر تین چوتھائی یا 9 کروڑ پناہ گزین ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں
انہیں شدید یا انتہائی شدید درجے کی خشک سالی، سیلاب اور سخت گرمی کی لہروں جیسے موسمیاتی خطرات کا سامنا
ہے۔ پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے خبردار
کیا ہے کہ پناہ گزینوں کی مشکلات کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فراہم
کی جانے والی مالی امداد ان لوگوں تک نہیں پہنچ رہی جبکہ انہیں اس کی سب سے زیادہ
ضرورت ہے۔
آئندہ ہفتے ترکیہ کے شہر انطالیہ میں شروع ہونے والی اقوام متحدہ کی
عالمی موسمیاتی کانفرنس (کاپ 31) سے قبل 'یو این ایچ سی آر' کی جاری کردہ رپورٹ
بعنوان 'کوئی راہ فرار نہیں' میں کہا گیا ہے کہ تنازعات اور عدم استحکام سے متاثرہ
جن ممالک میں پناہ گزینوں کی بڑی تعداد مقیم ہے وہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے
لیے فراہم کی جانے والی عالمی مالی امداد کا تقریباً 10 فیصد ہی حاصل کر پاتے ہیں۔
ادارے کے اسسٹنٹ ہائی کمشنر انتون لیئس گارشیا (Antón Leis García) نے
کہا ہے کہ پناہ گزینوں کو دہری ناانصافی کا سامنا ہے۔ وہ ایسے تنازعات کے باعث
اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے جن کے ذمہ دار وہ خود نہیں تھے اور اب ایک ایسے
موسمیاتی بحران کی زد میں ہیں جس میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔
خشک موسم، سنگین نتائج
رپورٹ میں موسمیاتی بحران سے بری طرح متاثرہ بے گھر افراد کی آٹھ
نمائندہ شخصیات کا تذکرہ بھی شامل ہے۔ ان
میں سوڈان سے تعلق رکھنے والی منیرہ بحرالدین (Munira Bahruddin) بھی
ہیں جو 2023 کے وسط میں جنگ سے تباہ حال علاقے دارفور کے شہر
الفاشر سے نقل مکانی پر مجبور ہوئیں اور اب مشرقی چاڈ کی ایک پناہ گزین بستی میں
رہتی ہیں۔ انہوں نے رپورٹ کے مرتبین کو
بتایا کہ چاڈ میں خشک موسم کی شدت دارفور کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ پانی لانے کے لیے سفر پہلے سے بھی طویل ہو
جاتا ہے جبکہ اس دوران ان کے خاندان کی پانی کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2050 تک ذیلی صحارا افریقہ میں ہر تین میں سے ایک پناہ گزین بستی
کو سالانہ کم از کم 100 دن تک شدید اور جان لیوا گرمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
سیلاب اور
جبری نقل مکانی
گزشتہ دہائی کے دوران موسمیاتی آفات کے باعث دنیا بھر میں کروڑوں
افراد اپنے ممالک میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ال نینو کے باعث آنے والے شدید
سیلاب کے نتیجے میں رواں سال کے اختتام تک صومالیہ، کینیا، جنوبی سوڈان اور یوگنڈا
میں 30 لاکھ افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے بے گھر افراد کی اپنے علاقوں
میں مستقل واپسی اور دوبارہ آبادکاری کے امکانات بھی مشکل بنا دیے ہیں۔ 2026 کے
پہلے چھ ماہ کے دوران اپنے وطن واپس جانے والے دو تہائی سے زیادہ پناہ گزین ایسے
ممالک میں لوٹے جو موسمیاتی خطرات کے حوالے سے انتہائی غیر محفوظ ہیں۔
شام میں بھی حالیہ عرصہ کے دوران تقریباً 40 لاکھ افراد واپس آ چکے
ہیں، لیکن زیر زمین پانی کی سطح میں کمی اور شدید موسمیاتی اثرات ایک دہائی سے
زیادہ عرصہ تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد بحالی کی کوششوں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ دنیا بھر میں بے وطن افراد کی تقریباً 90 فیصد
تعداد ایسے ممالک میں رہتی ہے جو موسمیاتی خطرات سے شدید متاثر ہیں۔ قدرتی آفات
آنے کی صورت میں ان افراد کو امداد اور معاونت کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا
کرنا پڑتا ہے کیونکہ ان کے پاس قانونی شناخت اور شہریت موجود نہیں ہوتی۔
موسمیاتی
سرمایہ کاری
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پناہ گزین اور انہیں پناہ دینے
والی مقامی آبادیاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نئے اور موثر طریقے
اپنا رہی ہیں۔ ان اقدامات میں ساہل خطے میں
شمسی توانائی سے چلنے والے پانی کے نظام، یوگنڈا میں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ
کرنے کے لیے زرعی طریقہ کار اور کولمبیا میں زمین اور مینگرووز کے
جنگلات کی بحالی کے منصوبے شامل ہیں۔ انتون
گارسیا (Antón Leis García) نے
کہا ہے کہ کاپ 31 کو ایک ایسا اہم موڑ ثابت ہونا چاہیے جہاں پناہ گزینوں کی قیادت
اور کردار کو تسلیم کرنے کے ساتھ بڑے عالمی وعدوں کو سرمایہ کاری میں تبدیل کیا
جائے تاکہ موسمیاتی خطرات سے بری طرح متاثرہ افراد مدد حاصل کر سکیں۔