کبھی نیویارک کی سڑکوں پر بے گھر زندگی گزارنے اور پیٹ پالنے کے لیے
مچھلیاں صاف کرنے والے سلویسٹر اسٹالون (Sylvester Stallone) کو
ہالی ووڈ میں کوئی سنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں
ہاری، خود ایک فلم کی کہانی لکھی اور اس میں مرکزی کردار ادا کرنے پر اصرار کیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ 1976 میں ریلیز ہونے والی فلم ’راکی‘ (Rocky) نے انہیں
راتوں رات ہالی وڈ کا بڑا اسٹار بنا دیا اور آسکر میں بہترین فلم کا اعزاز بھی
حاصل کیا۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ہالی ووڈ کی تاریخ میں کامیابی کی کئی
غیرمعمولی کہانیاں موجود ہیں لیکن اداکار اور مصنف سلویسٹر اسٹالون (Sylvester
Stallone) کی کہانی شاید ان سب سے زیادہ متاثر کن ہے۔ ایک ایسا شخص جسے نہ
اداکاری کے مواقع مل رہے تھے، نہ اس کے پاس پیسے تھے اور نہ ہی فلمی صنعت میں کوئی
اسے اہمیت دینے کو تیار تھا، اس نے اپنی ناکامیوں کو ہی ایک ایسی فلم کی بنیاد بنا
دیا جس نے سینما کی تاریخ بدل دی۔ اس غیرمعمولی سفر کو نئی فلم ’آئی پلے راکی‘ میں
پیش کیا گیا ہے جس کی ہدایت کاری پیٹر فیریلی (Peter Farrelly) نے
کی ہے۔ اس فلم میں نوجوان سلویسٹر اسٹالون (Sylvester
Stallone) کا
کردار نسبتاً غیرمعروف اداکار انتھونی ایپولیٹو (Anthony Ippolito) نے
ادا کیا ہے۔
فلم کی کہانی سنہ 1970 کی دہائی کے ابتدائی برسوں سے شروع ہوتی ہے جب
اسٹالون (Sylvester
Stallone) نیویارک کی
سڑکوں پر بے گھر زندگی گزار رہے تھے اور ان کے پاس تنہائی میں ساتھ دینے کے لیے
صرف ان کا کتا بٹکسس تھا۔ اداکاری
کے لیے آڈیشن دینے کے باوجود انہیں مسلسل ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ گزر بسر
کے لیے وہ کئی کئی گھنٹے مچھلیاں صاف کرنے کا مشکل کام کرتے تھے۔ اداکار بننے کا
خواب دیکھنے پر لوگ ان کا مذاق بھی اڑاتے تھے، کیونکہ پیدائش کے وقت فورسپس (بچے
کی پیدائش میں استعمال ہونے والا طبی آلہ) کے استعمال کے باعث ان کے چہرے کے ایک
حصے پر فالج کے اثرات تھے اور بولنے میں بھی دقت ہوتی تھی۔
اسٹالون (Sylvester
Stallone) اپنی
آواز اور بولنے کے انداز کو بہتر بنانے کے لیے اپنی گفتگو ریکارڈ کرتے اور پھر اسے
دوبارہ سن کر اپنی غلطیوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ فلم
میں دکھایا گیا ہے کہ وہ بعد میں لاس اینجلس منتقل ہوگئے جہاں مالی مشکلات اس قدر
بڑھ گئیں کہ انہیں کچھ عرصے کے لیے اپنے پیارے کتے بٹکسس (Kutte Buttaksis) کو
بھی فروخت کرنا پڑا۔ تاہم بعد میں یہی کتا (Kutte) فلم
’راکی‘ میں بھی نظر آیا۔ ان
تمام مشکلات کے باوجود اسٹالون (Stallone)نے
ہمت نہیں ہاری اور صرف تین دن میں ایک باکسر کی کہانی لکھ ڈالی جو آگے چل کر فلم
’راکی‘ کی بنیاد بنی۔
اسٹالون اور راکی کی زندگی میں حیرت انگیز مماثلت
فلم ’راکی‘ میں اسٹالون (Stallone) نے راکی
بالبوا (Rocky Balboa) نامی ایک ایسے باکسر کا کردار ادا کیا جو اپنے
عروج کا زمانہ گزار چکا ہے اور جسے دنیا ایک ناکام باکسر سمجھتی ہے۔ اسے اچانک
موقع ملتا ہے کہ وہ عالمی ہیوی ویٹ چیمپئن اپولو کریڈ (Apollo Creed) کے
خلاف رنگ میں اترے، حالانکہ اس کے جیتنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ راکی جانتا ہے کہ وہ شاید یہ مقابلہ نہ جیت سکے،
لیکن وہ اپنی پوری صلاحیت آزمانے اور دنیا کو اپنی ہمت دکھانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ فلمی جریدے ایمپائر کے ایڈیٹر اور اسٹالون سمیت اس
دور کے ایکشن اداکاروں پر کتاب ’دی لاسٹ ایکشن ہیروز‘ (The Last Action Heroes) کے
مصنف نک ڈی سیمیلین (Nick de Semlyen) کے
مطابق اسٹالون خود بھی ایک ایسے ہی شخص تھے جسے مسلسل ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹالون ایک وقت میں بالکل کنگال
تھے، لیکن پھر اچانک ہالی ووڈ کے مقبول ترین اداکاروں میں شمار ہونے لگے اور آسکر
کی تقریب میں بھی ان کی دھوم مچ گئی۔ فلمی تاریخ میں قسمت بدلنے کی اس قدر ڈرامائی
مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ فلم
میں نوجوان اسٹالون کا کردار ادا کرنے والے انتھونی ایپولیٹو (Anthony
Ippolito) بھی اس بات سے
اتفاق کرتے ہیں کہ اداکار اور ان کے تخلیق کردہ کردار راکی میں گہری مماثلت موجود
ہے۔ ان کے مطابق دونوں میں کچھ فرق
ضرور ہے کیونکہ اسٹالون ایک باصلاحیت مصنف تھے بہت مطالعہ کرتے تھے اور ان کی
شخصیت میں راکی کے مقابلے میں زیادہ غوروفکر کا عنصر موجود تھا، تاہم فلم کی کہانی
بڑی حد تک ان کی اپنی زندگی سے متاثر ہے۔
جب ہالی ووڈ نے اہمیت نہ دی تو اپنی کہانی خود لکھ
ڈالی
سلویسٹر اسٹالون نے اپنی حالیہ یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’دی اسٹیپس‘ (The Steps) میں
بھی بتایا ہے کہ فلم ’راکی‘ لکھنے کا خیال انہیں اپنی زندگی کی مشکلات اور اداکاری
میں مسلسل ناکامیوں کے دوران آیا تھا۔ ان
کے مطابق وہ سمجھتے تھے کہ دنیا میں کروڑوں افراد ایسے ہوں گے جو زندگی میں بار
بار مسترد کیے جانے اور مواقع کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے مایوسی اور بے بسی
محسوس کرتے ہیں۔ انہوں
نے اپنی کتاب میں لکھا کہ انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ اربوں انسانوں میں وہ واحد
شخص ہوں گے جو اس احساس سے گزر رہا ہو کہ زندگی میں کامیابی کے تمام دروازے بار
بار ان کے منہ پر بند کیے جا رہے ہیں۔ اسٹالون
نے کالج کے زمانے میں اداکاری شروع کی تھی، لیکن اس وقت تک ان کے کیریئر کا سب سے
نمایاں کام فلم ’دی لارڈز آف فلیٹ بش‘ (The Lords of Flatbush) میں
معاون کردار تھا، جس میں ہنری وِنکلر (Henry Winkler) نے
بھی اداکاری کی تھی۔ ہنری وِنکلر (Henry Winkler) بعد
میں مشہور ٹی وی سیریز ’ہیپی ڈیز‘ (Happy Days) کے کردار فونز
کی وجہ سے شہرت حاصل کر گئے۔
اسٹالون نے 1970 میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک کم بجٹ کی
بالغوں کی فلم میں بھی کام کیا تھا۔ نک
ڈی سیمیلین (Nick de Semlyen) کے مطابق
اسٹالون خود کو ایک سنجیدہ اداکار سمجھتے تھے اور شاعری سے دلچسپی رکھتے تھے اور
معروف امریکی ادیب ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) کے
بڑے مداح تھے لیکن فلمی صنعت انہیں سنجیدہ اداکار کے بجائے اکثر غنڈے یا جرائم
پیشہ شخص کے کرداروں میں کاسٹ کرتی تھی۔ ان
کے مطابق مسلسل ایک جیسے کردار ملنے اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق مواقع نہ ملنے پر
اسٹالون نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی کہانیاں خود لکھیں گے اور اپنی مرضی کے کردار تخلیق
کریں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ فلم ’راکی‘ کا
وجود میں آنا کسی معجزے سے کم نہیں تھا، کیونکہ اسٹالون اس وقت فلمی صنعت میں
تقریباً بے اختیار تھے۔
اسکرپٹ کے لاکھوں ڈالر مل رہے تھے، لیکن اسٹالون
نے انکار کردیا
فلم ’آئی پلے راکی‘ (I Play Rocky) میں
دکھایا گیا ہے کہ فلم ساز ادارے یونائیٹڈ آرٹسٹس نے اسٹالون کو ان کی کہانی خریدنے
کے لیے مسلسل زیادہ رقم کی پیشکش کی لیکن ایک شرط رکھی کہ مرکزی کردار وہ خود ادا
نہیں کریں گے بلکہ اس دور کے کسی مشہور اداکار کو راکی بالبوا (Co-Rocky
Balboa) کے کردار کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ ان
اداکاروں میں برٹ رینالڈز (Burt Reynolds) اور
ریان اونیل (Ryan O’Neal) جیسے نام بھی شامل تھے۔ حقیقت
میں اسٹالون کو اسکرپٹ کے عوض کتنی رقم کی پیشکش ہوئی تھی، اس بارے میں مختلف
روایات موجود ہیں۔ خود اسٹالون کے مطابق انہیں 3 لاکھ 60 ہزار ڈالر کی پیشکش کی
گئی تھی۔ مالی مشکلات کے باوجود وہ اپنی
شرط سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ اگر فلم بنے گی تو مرکزی
کردار وہ خود ادا کریں گے۔
بالآخر فلم بنانے پر اتفاق ہوگیا اور اسٹالون کو راکی کا کردار مل
گیا، لیکن فلم کا بجٹ صرف تقریباً 10 لاکھ ڈالر رکھا گیا جو اس کے آزاد فلم سازوں
ارون وِنکلر (Irwin
Winkler) اور رابرٹ چارٹوف (Robert Chartoff) کی
توقعات سے کہیں کم تھا۔ فلم
سازوں اور اسٹوڈیو کے درمیان معاہدے کے مطابق اگر فلم کم بجٹ میں تیار کی جاتی تو
مرکزی کرداروں کے انتخاب کا مکمل اختیار فلم سازوں کے پاس ہوتا۔ تاہم ایک محدود بجٹ میں باکسنگ پر مبنی فلم بنانا
اور اس میں ایک ایسے اداکار کو مرکزی کردار دینا جسے اس وقت کوئی بڑی شہرت حاصل
نہیں تھی سب کے لیے ایک بڑا خطرہ تھا۔
صرف 28 دن میں فلم کی شوٹنگ مکمل، اسٹالون کے ہاتھ
بھی زخمی ہوگئے
فلم ’راکی‘ کی شوٹنگ ڈائریکٹر جان جی ایولڈسن (John G. Avildsen) نے
انتہائی تیزی سے صرف 28 دن میں مکمل کی۔ فلمی تاریخ میں اس کی شوٹنگ آج بھی ایک
غیرمعمولی مثال سمجھی جاتی ہے۔ کم
بجٹ کے باعث زیادہ تر مناظر صرف ایک ہی بار فلمائے جاتے تھے کیونکہ دوبارہ شوٹنگ
کے لیے اضافی رقم موجود نہیں تھی۔ فلم
کے ایک مشہور منظر میں راکی کو گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑوں پر مکے برساتے دکھایا گیا
ہے۔ اس منظر کو حقیقت کے قریب بنانے کے لیے اسٹالون نے منجمد گوشت پر اتنی زور سے
مکے مارے کہ ان کے ہاتھوں کی ہڈیوں اور جوڑوں کو مستقل نقصان پہنچا۔ نک ڈی سیمیلین (Nick de Semlyen)
کے
مطابق شوٹنگ کے دوران بھی بہت کم لوگوں کو یقین تھا کہ اسٹالون کی فلم کامیاب
ہوسکے گی۔ فلم مکمل ہونے کے بعد اسٹوڈیو بھی اس سے زیادہ متاثر نہیں تھا اور اس کی
تشہیر پر زیادہ رقم خرچ نہیں کی گئی۔ یہاں
تک کہ فلم کو کانز (Cannes) فلم فیسٹیول
جیسے بڑے فلمی ایونٹس میں بھی پیش نہیں کیا گیا۔ لیکن
جب فلم کی محدود نمائش شروع ہوئی تو ناظرین کا ردعمل توقعات سے بالکل مختلف تھا۔
لوگوں نے اس کی کہانی اور مرکزی کردار سے غیرمعمولی تعلق محسوس کیا اور یوں فلم کی
مقبولیت تیزی سے بڑھنے لگی۔
آسکر میں 10 نامزدگیاں اور بہترین فلم کا اعزاز
1976 میں ریلیز ہونے والی ’راکی‘ اس
سال کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی۔ اگلے سال 1977 کے آسکر ایوارڈز
میں اسے 10 مختلف شعبوں میں نامزد کیا گیا اور اس نے تین ایوارڈز حاصل کیے، جن میں
بہترین فلم کا سب سے بڑا اعزاز بھی شامل تھا۔ سلویسٹر
اسٹالون کو بہترین اداکار اور بہترین اوریجنل اسکرین پلے کے لیے بھی آسکر کی
نامزدگیاں ملیں۔ فلم
کی کامیابی کے بعد اس کے کئی حصے بنائے گئے، جن میں سے بعض کی ہدایت کاری بھی خود
اسٹالون نے کی۔ بعد ازاں اسی کہانی سے متاثر ہوکر ’کریڈ‘ (Creed) کے نام سے
فلموں کا ایک سلسلہ بھی شروع ہوا، جس میں مائیکل بی جورڈن (Michael B. Jordan) نے
مرکزی کردار ادا کیا اور یہ فلمیں بھی غیرمعمولی طور پر کامیاب رہیں۔ اسٹالون نے حالیہ برسوں میں ’راکی‘ کی کہانی کے پس
منظر پر مبنی ایک نئی فلم بنانے کا خیال بھی ظاہر کیا ہے۔
راکی کی کہانی آج بھی لوگوں کو کیوں متاثر کرتی
ہے؟
صحافی مائیک سیلسکی (Journalist
Mike Sielski) جنہوں نے فلم ’راکی‘ کی تیاری پر کتاب ’گوئنگ دی
ڈسٹنس‘ (Going
the Distance) لکھی ہے کے مطابق اس فلم کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کی
کہانی 2 سطحوں پر ایک ایسے شخص کی جدوجہد بیان کرتی ہے جسے دنیا نے مسترد کردیا
تھا۔ ایک طرف خود اسٹالون کی زندگی ہے اور دوسری طرف ان کا تخلیق کردہ کردار راکی۔ ان کے مطابق لوگ آج بھی یہ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ
اسٹالون نے فلم بنانے کے لیے کس قدر مشکلات برداشت کیں اور کس طرح اپنی ناکامیوں
کو کامیابی میں تبدیل کیا۔
مائیک سیلسکی (Mike
Sielski) کا کہنا ہے کہ فلم کی کہانی کا اختتام بھی
اسے دوسری روایتی ہالی ووڈ فلموں سے مختلف بناتا ہے۔ راکی عالمی چیمپیئن اپولو
کریڈ (Apollo
Creed) کے خلاف مقابلہ ہار جاتا ہے لیکن اس کے باوجود فلم دیکھنے والے اسے
ناکام نہیں سمجھتے۔ ان
کے مطابق جب اپولو کریڈ (Apollo Creed) راکی
کو گرا دیتا ہے تو وہ دوبارہ اٹھنے اور مقابلہ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جس میں ناظرین خود کو راکی کی جگہ محسوس کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ
انہیں بھی مشکلات کے سامنے ہار نہیں ماننی چاہیے۔ ان
کا کہنا ہے کہ یہ کہانی انسانی فطرت کے ایک ایسے پہلو کو چھوتی ہے جس میں ہر شخص
خود کو مشکلات سے لڑنے اور دوبارہ کھڑے ہونے کے قابل دیکھنا چاہتا ہے۔ مائیک سیلسکی (Mike Sielski) کے
خیال میں 1976 میں امریکا میں فلم کی غیرمعمولی کامیابی کی ایک بڑی وجہ اس وقت کا
معاشرتی اور سیاسی ماحول بھی تھا۔ امریکی عوام ایک ایسے دور سے گزر رہے تھے جب
واٹرگیٹ اسکینڈل اور ویتنام جنگ نے معاشرے میں مایوسی اور بے یقینی پیدا کردی تھی۔
اس دور کی کئی مقبول فلمیں بھی منفی یا پیچیدہ کرداروں اور معاشرتی
بے چینی کے گرد گھومتی تھیں۔ 1977 کے آسکر میں نامزد ہونے والی فلموں میں ’ٹیکسی
ڈرائیور‘ اور ’نیٹ ورک‘ بھی شامل تھیں جو اپنے موضوعات کے اعتبار سے امریکی معاشرے
کی بے چینی اور غصے کی عکاسی کرتی تھیں۔ سیلسکی
(Mike
Sielski) کے مطابق بعض اوقات معاشرے کو خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اسے کس چیز
کی ضرورت ہے لیکن جب کوئی شخص یا ادارہ وہ چیز فراہم کردیتا ہے تو اس کا اثر
غیرمعمولی ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں ’راکی‘ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ امریکی عوام
ایک ایسی کہانی دیکھنا چاہتے تھے جو انہیں امید، حوصلہ اور دوبارہ کھڑے ہونے کا
جذبہ دے اور اسٹالون نے انہیں یہی کہانی پیش کی۔ یوں
ایک ایسا شخص جسے کبھی اداکاری کے قابل نہیں سمجھا گیا اس نے اپنی زندگی کی جدوجہد
کو ایک ایسی فلم میں ڈھال دیا جو آج بھی ہمت، ثابت قدمی اور ہار نہ ماننے کی علامت
سمجھی جاتی ہے۔