مصنوعی ذہانت ہماری زندگی کو آسان بنانے کا وعدہ کرتی ہے اور یہ ٹیکنالوجی میں ایسی غیرمعمولی پیش رفت ہے جس کی
مثال انٹرنیٹ کی آمد سے دی جا سکتی ہے۔ لیکن معروف
نیورو سائنس دان ڈیوڈ راک (David Rock) کے مطابق، اصل سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت ہمارے لیے کیا کر رہی
ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس سے ہمارے اندر کون سی تبدیلیاں آ رہی ہیں؟ انہوں نے یو این نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے
کہ بعض پہلوؤں سے دیکھا جائے تو یہ ٹیکنالوجی انسان کو بالکل بھی تبدیل نہیں کر
رہی۔
انسانی دماغ آج بھی فیصلے لینے،
مسائل کو حل کرنے اور ان کا سامنا کرنے کے لیے تقریباً انہی طریقوں سے کام کرتا ہے
جن پر وہ ہزاروں سال سے عمل پیرا ہے۔ تاہم، تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے واقعات اور طویل
عرصہ تک برقرار رہنے والے دباؤ دماغ پر ایسے گہرے اثرات چھوڑ سکتے ہیں جو نسلوں تک
انسانی رویوں کی تشکیل کرتے رہتے ہیں۔
ڈیوڈ راک کے مطابق، موجودہ دور اس اعتبار سے مختلف ہے کہ ٹیکنالوجی
ہمیں تقریباً ہر معاملے میں اپنے اختیار اور کنٹرول کا احساس دلا رہی ہے۔ اختیار اور خودمختاری کا یہ بڑھتا ہوا احساس بظاہر
زندگی کو آسان اور پرسکون بناتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ایک ایسا پوشیدہ خطرہ بھی جنم
لے رہا ہے جو خاص طور پر اس وقت زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب مصنوعی ذہانت وہ کام
بھی کرنے لگتی ہے جن کے لیے پہلے خاصی ذہنی محنت درکار ہوتی تھی۔
دماغی صلاحیتوں کا زوال
ڈیوڈ
راک (David Rock) کے لیے اصل تشویش یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت طاقتور
ہوتی جا رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ انسان اپنی سوچنے کی صلاحیت بھی اس کے حوالے کرنے
پر آمادہ ہو رہے ہیں۔ ان
کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے آلات اپنانے میں تیزی دکھائی گئی اور یہ نہیں سوچا
گیا کہ طویل مدتی طور پر ان کے کیا اثرات ہوں گے اور اب اس کے نتائج سامنے آنے لگے
ہیں۔ کارکنوں کی
ایک چھوٹی سی تعداد، یعنی پانچ سے دس فیصد ہی مصنوعی ذہانت کو درست انداز میں
استعمال کر رہی ہے۔ یہ لوگ معمول کے دہرائے جانے والے کام اے آئی کے سپرد کرکے
اپنی ذہنی صلاحیتوں کو زیادہ اہم اور پیچیدہ امور پر صرف کرتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر
افراد اس سے برعکس کر رہے ہیں۔ ڈیوڈ
راک کہتے ہیں کہ انسانی دماغ فطری طور پر توانائی بچانا چاہتا ہے۔
یہ خیال بہت پرکشش ہے کہ دماغ کو
سوچنے کی زحمت ہی نہ اٹھانا پڑے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ انسانوں کی
فیصلہ کرنے اور درست رائے قائم کرنے کی صلاحیت بتدریج کمزور ہونے لگے گی۔ جب لوگ صرف معمول کے کام ہی نہیں بلکہ تجزیہ، جانچ پڑتال اور فیصلہ
سازی بھی مصنوعی ذہانت کے حوالے کر دیتے ہیں تو ان کے لیے اچھے اور برے میں فرق
کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت فوری جواب تو دے سکتی ہے، لیکن تیز رفتاری دانش مندی کا
متبادل نہیں۔ اسی لیے دماغ کو سوچنے کے عمل میں شامل رکھنا ضروری ہے۔ جب انسانی
دماغ سوچنا چھوڑ دیتا ہے تو یہ صلاحیتیں بہت جلد ختم ہونے لگتی ہیں۔
توجہ اور یکسوئی کا بحران
مصنوعی
ذہانت کا عروج ایسے وقت ہو رہا ہے جب بہت سے لوگ پہلے ہی اپنی توجہ مرکوز رکھنے
میں مشکلات کا شکار ہیں۔ ڈیوڈ راک کے مطابق، آج ملازمین کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ
معلومات کی کمی نہیں بلکہ ان کی فراوانی ہے۔
وہ
موجودہ صورت حال کا موازنہ ای میل کے ابتدائی دور سے کرتے ہیں جس نے لوگوں کے لیے
معلومات کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ کر دیا تھا۔ تاہم آج صورت حال کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ملازمین کو مسلسل
پیغامات، اپ ڈیٹس، نوٹیفکیشنز اور مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ خلاصوں کا سامنا رہتا
ہے جن کی تعداد بعض اوقات انسانی دماغ کی برداشت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ہمارے دماغ کی
صلاحیت کی حقیقی حدود ہیں۔ کمپیوٹر چند لمحوں میں ہزاروں فیصلوں پر کارروائی کر
سکتے ہیں لیکن انسان ایسا نہیں کر سکتے۔ اس کے باوجود بہت سے ادارے اس طرح کام کر رہے ہیں جیسے انسانوں
کے پاس توجہ دینے اور فیصلے کرنے کی لامحدود صلاحیت موجود ہو۔
ڈیوڈ
راک کا خیال ہے کہ معاشرہ ابھی مصنوعی ذہانت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے ابتدائی
مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اس صورت حال کا موازنہ گاڑیوں کے ابتدائی دور سے کرنا مناسب
ہو گا جب ٹریفک قوانین اور رفتار کی حدود متعین نہیں تھیں۔ ٹیکنالوجی اس قدر تیزی سے سامنے آئی ہے کہ اس کے
ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ضروری سماجی اصول اور حفاظتی ضابطے ابھی تک پوری طرح
تشکیل نہیں پا سکے۔
ورچوئل دنیا کی تنہائی
ماضی
کی بڑی تکنیکی ایجادات سے برعکس، مصنوعی ذہانت شاید انسانی زندگی کے ایک اور بھی
بنیادی پہلو، یعنی باہمی تعلقات کو بھی تبدیل کر رہی ہے۔ ڈیوڈ
راک کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت انسان کی دوسروں سے تعلق قائم کرنے کی فطری صلاحیت
پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ٹیلی ویژن، کتابیں اور سمارٹ فون جہاں انسانی توجہ حاصل
کرنے کے لیے ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے تھے وہیں مصنوعی ذہانت اب انسانی تعلقات کی
جگہ لینے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگ چیٹ بوٹس سے صرف معلومات حاصل کرنے کے لیے
نہیں بلکہ گفتگو، رفاقت اور مشورے کے لیے بھی رجوع کر رہے ہیں۔ وہ اس رجحان کو انتہائی
تشویشناک قرار دیتے ہیں۔ ان کہنا ہے کہ جو لوگ مصنوعی ذہانت پر مبنی ورچوئل
ساتھیوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں وہ مزید تنہائی محسوس کر سکتے ہیں۔ انسانی دماغ کی تشکیل ہی دوسرے انسانوں کے ساتھ
تعلقات اور میل جول کے ماحول میں ہوئی ہے۔ اس باہمی رابطے کی جگہ اگر مشینیں لینے لگیں تو اس کی نفسیاتی
قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے جس کے اثرات کو معاشرہ ابھی پوری طرح سمجھ نہیں پایا۔ جب مصنوعی ذہانت مزید جدید ہوتی
جائے گی اور روبوٹکس، تیز رفتار کمپیوٹنگ اور انٹرنیٹ کی جدید ٹیکنالوجی ایک دوسرے
سے جڑیں گی تو یہ سوالات مزید اہم ہوتے جائیں گے۔
انسانی تعلقات
کی اہمیت
ایک دلچسپ تضاد یہ ہے کہ مشینیں جتنی زیادہ صلاحیتیں حاصل کرتی جائیں
گی انسانی تعلقات کی اہمیت بھی اتنی ہی بڑھ سکتی ہے۔ ڈیوڈ
راک سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں اعتماد، خلوص اور حقیقی انسانی تعلق کو غیر معمولی
اہمیت حاصل ہو گی۔ ایسی دنیا میں جہاں مشینیں مواد تیار کر سکتی ہیں، اعداد و شمار
کا تجزیہ کر سکتی ہیں اور انسانی گفتگو کی نقل بھی اتار سکتی ہیں وہاں انسان کی
اپنی فطری خصوصیات پہلے سے زیادہ قیمتی ہو سکتی ہیں۔ وہ
کہتے ہیں کہ انسانی تجربے اور احساسات کی قدر مستقبل میں کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔
مصنوعی ذہانت انسانوں کی جگہ لینے کے بجائے بالآخر انسانی روابط، گہرے تعلقات اور
بامعنی باہمی تعاون کی اہمیت میں اضافہ کر سکتی ہے۔ مستقبل
کی یہ صورت حال یقینی نہیں البتہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں یہ ایک ممکنہ راستہ
ضرور ہے۔ ڈیوڈ راک کے خیال میں تبدیلی کی رفتار مزید تیز ہونے والی ہے۔ یہ رفتار اس سے پہلے کبھی اتنی تیز نہیں تھی لیکن
آئندہ یہ کبھی اتنی سست بھی نہیں ہو گی۔
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان اس بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ
خود کو کیسے ہم آہنگ کریں؟
ڈیوڈ راک کے مطابق، اس سوال کا جواب ایک بنیادی تصور میں پوشیدہ ہے
جسے میٹا کاگنیشن کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے اپنی سوچ پر غور کرنا، یعنی یہ
سمجھنا کہ ہم کیسے سوچتے ہیں اور اپنے فیصلے کیسے کرتے ہیں۔ وہ
کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو اپنی سوچ پر حاوی ہونے دینے کے بجائے انسانوں کو اس
پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہیے۔ اسے اپنی سوچ کا متبادل بنانے کے بجائے اپنے
نقطہ نظر کو وسیع کرنے اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ مستقبل
کا انحصار شاید اس بات پر نہیں ہو گا کہ مصنوعی ذہانت کتنی ذہین ہو جاتی ہے، بلکہ
اس پر ہو گا کہ انسان اپنی موجودہ ذہانت کو استعمال کرنا جاری رکھتے ہیں یا نہیں۔