بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اتوار کے روز اپوزیشن جماعتوں کی
قیادت میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار
سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ووٹر فہرستوں میں تبدیلی کے عمل کو
متنازع قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس سے حکمران جماعت کو غیر منصفانہ فائدہ
پہنچایا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں انتخابی فہرستوں پر ملک گیر
نظرثانی کے عمل نے گزشتہ ایک ماہ سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں سیاسی تنازعات
اور سڑکوں پر احتجاج کو جنم دے رکھا ہے۔
ووٹر فہرستوں میں تبدیلی پر اپوزیشن کے تحفظات
بھارتی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں کو درست اور شفاف
بنانے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل کو
وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے حق میں استعمال
کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن اور بی جے پی دونوں نے ان الزامات کو
مسترد کر دیا ہے۔ اتوار کو اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کی قیادت
میں مظاہرین نے نئی دہلی کے مرکزی علاقوں سے رام لیلا میدان تک مارچ کیا۔ مظاہرین
ڈھول بجاتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے کہ ’ووٹ چور، اپنی نشست چھوڑ دو‘۔ مظاہرین میں
شامل 46 سالہ نندیتا نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے، صرف اپنا پہلا نام بتایا
اور کہا کہ وہ 18 سال کی عمر سے ووٹ ڈال رہی ہیں، لیکن اب انہیں معلوم ہوا ہے کہ
ان کا نام ووٹر فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں حالات جس
سمت جا رہے ہیں، اس کے پیش نظر احتجاج میں شرکت ضروری ہے۔ مہنگائی میں اضافہ ہو
رہا ہے اور پرامن طریقے سے سڑکوں پر نکلنا ہی واحد راستہ ہے۔
13 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ ووٹرز کے نام خارج
بھارت میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے نتیجے میں 13 کروڑ 30 لاکھ سے
زیادہ افراد کے نام انتخابی فہرستوں سے نکال دیے گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے رپورٹ
کردہ اعداد و شمار اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی
دستاویزات میں بھی ان اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ
ناموں کے اخراج سے اقلیتیں، خصوصاً مسلمان، غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ بی
جے پی کے ہندو قوم پرست ارکان طویل عرصے سے الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ پڑوسی ملک
بنگلہ دیش سے بڑی تعداد میں غیر دستاویزی مسلمان تارکین وطن غیر قانونی طور پر
بھارت کی ووٹر فہرستوں میں شامل ہوئے ہیں۔ تاہم انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ
نظرثانی کا مقصد ووٹر فہرستوں سے دوہرے اندراجات، وفات پا جانے والے افراد اور
جعلی اندراجات کو ختم کرنا تھا۔ حکام کے مطابق اہل ووٹرز اب بھی اپنا نام فہرست میں
شامل کرانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے بھی تنقید
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ووٹر فہرستوں سے
ناموں کے اخراج کے عمل کو من مانا اور سنگین خامیوں پر مبنی قرار دیا ہے۔ تنظیم نے
رواں ہفتے جاری بیان میں کہا کہ حکام کو ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا یہ عمل فوری
طور پر ختم کر دینا چاہیے، جس کے باعث بھارت کے سب سے زیادہ محروم طبقات کو ووٹ کے
حق اور دیگر سرکاری خدمات سے محروم کیا گیا ہے۔
نوجوانوں کی تحریک بھی احتجاج میں شامل
آن لائن نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی احتجاجی تحریک ’کاکروچ جنتا
پارٹی‘ نے بھی ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے خلاف مہم میں بھرپور حصہ لیا ہے۔ گزشتہ
ماہ ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اس تحریک کے متعدد رہنماؤں کو پولیس نے
عارضی طور پر حراست میں بھی لیا تھا۔ مئی میں قائم ہونے والی اس تحریک نے سوشل
میڈیا پر لاکھوں فالوورز حاصل کر لیے ہیں۔ اس سے قبل جولائی میں امتحانات میں بے
ضابطگیوں کے خلاف کاکروچ تحریک کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں وزیر
تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا، جو مودی حکومت کی جانب سے ایک غیر معمولی پسپائی
قرار دی گئی۔