تل ابیب: اسرائیل کی سیاست میں
نئی کنیسیٹ (پارلیمنٹ) کے حلف اٹھاتے ہی اپوزیشن اتحاد نے اپنی پہلی بڑی حکمت عملی
پر پیش رفت شروع کر دی ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے مخالف
اپوزیشن بلاک نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت سازی سے قطع نظر، سب سے پہلے لیکوڈ پارٹی
کے موجودہ اسپیکر امیر اوہانا کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے گا۔ کنیسیٹ کا اسپیکر
پارلیمانی ایجنڈے، قانون سازی، رائے شماری اور مختلف کمیٹیوں کی تشکیل کا اہم
اختیار رکھتا ہے۔ اپوزیشن کا ماننا ہے کہ امیر اوہانا کو ہٹانے سے نیتن یاہو مخالف
کیمپ کو پارلیمنٹ کے تمام اہم فیصلے کنٹرول کرنے کی قوت مل جائے گی چاہے نیتن یاہو
قائم مقام حکومت کے سربراہ کے طور پر ہی عہدے پر برقرار کیوں نہ رہیں۔ اسپیکر کا انتخاب کنیسیٹ کے آغاز
پر اوپن ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے۔ امیر اوہانا کو عہدے سے ہٹانے اور اپنے امیدوار
کو لانے کے لیے اپوزیشن بلاک کو 120 رکنی پارلیمنٹ میں کم از کم 61 ارکان کی حمایت
درکار ہوگی۔ اس مقصد کے لیے عرب پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا
ہے۔
اس اقدام کے لیے باضابطہ نئی حکومت کی تشکیل یا
اس پر اتفاقِ رائے ضروری نہیں۔
دوسری جانب اسرائیل میں غیر
حتمی انتخابی نتائج کے بعد سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ گزشتہ روز تل ابیب
اور یروشلم میں سینکڑوں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر اپوزیشن لیڈر اور سابق فوجی
سربراہ گیڈی آئزن کوٹ (Gadi Eisenkot) پر
زور دیا کہ وہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے عرب سیاسی
جماعتوں سے اتحاد کریں۔ منگل کو ہونے والے غیر حتمی انتخابات میں 120 نشستوں والے
ایوان میں کسی بھی بلاک کو واضح اکثریت نہیں ملی۔ نیتن یاہو مخالف یہودی جماعتوں
نے 48 نشستیں حاصل کیں جبکہ عرب اکثریت والی دو جماعتوں (رعام اور جوائنٹ لسٹ) نے
مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتیں۔ اگر دونوں گروپس مل جائیں تو ان کی مجموعی نشستیں
67 ہو جاتی ہیں، جس سے نیتن یاہو کے خلاف واضح اکثریت قائم ہو سکتی ہے۔
تاہم، اپوزیشن بلاک کے اندر
شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ گیڈی آئزن کوٹ کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک “صہیونی
حکومت” بنائیں گے، جبکہ دائیں بازو کے رہنما ایویگڈور لیبرمین نے بھی عرب جماعتوں
کے تعاون کو مسترد کرتے ہوئے اسے “دہشت گردی کے حمایتیوں پر انحصار” قرار دیا ہے۔
دوسری جانب، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولان نے عرب جماعتوں
سے اتحاد کی مکمل حمایت کی ہے۔ نیتن یاہو اور ان کے حامیوں نے عرب پارٹیوں پر
مبینہ انتخابی دھاندلی اور قطر سے مالی امداد لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے
اسرائیل کے لیے “تباہی” قرار دیا ہے۔ صدر اسحاق ہرزوگ جمعرات تک حکومت سازی کا
مینڈیٹ جاری کریں گے، جبکہ مبصرین کا خیال ہے کہ یایو سمجھتے ہیں
ایران پر ممکنہ حملے کی دھمکیاں نیتن یاہو کو سیاسی وقت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی
ہیں۔