سابق جرمن چانسلر انجیلا میرکل (Angela Merkel) نے
جرمنی میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو صدر منتخب کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ
وفاقی جمہوریہ جرمنی کے 77 سالہ تاریخ میں اب تک کوئی خاتون اس منصب تک نہیں
پہنچی، اس لیے اب اس منصب کے لیے کسی خاتون امیدوار کے انتخاب پر سنجیدگی سے غور
کیا جانا چاہیے۔ میرکل
نے حال ہی میں میگنٹا ٹی وی (MagentaTV) کو
دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ''اب ہر کسی کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا اس
کا وقت نہیں آ گیا؟‘‘
سابق چانسلر نے مزید کہا کہ ایسی خواتین موجود ہیں جو اس عہدے کی ذمہ
داریاں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم انہوں نے کسی ممکنہ امیدوار کا نام
لینے سے گریز کیا۔ جرمنی
کی وفاقی اسمبلی (فیڈرل کنوینشن) 30 جنوری کو ملک کے
اگلے صدر کا انتخاب کرے گی۔ موجودہ
صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر (Frank-Walter Steinmeier) اپنی دوسری پانچ سالہ مدت پوری ہونے کے بعد
آئندہ مارچ میں اس عہدے سے دستبردار ہو جائیں گے کیونکہ وہ مسلسل تیسری مدت کے لیے
امیدوار نہیں بن سکتے۔ جرمنی میں صدر کا عہدہ زیادہ تر رسمی اور آئینی نوعیت کا
سمجھا جاتا ہے۔ باویریا
(Bavaria) کی ریاستی پارلیمنٹ کی صدر اِلزے آئگنر (Ilse
Aigner) کو کرسچین سوشل یونین (CSU) کے رہنما مارکوس
زؤیڈر (Markus
Söder) کی
حمایت حاصل ہے، جو انہیں اشٹائن مائر (Frank-Walter Steinmeier) کا جانشین دیکھنا چاہتے ہیں۔
قدامت پسند سیاسی اتحاد کے اندر زیرِ غور دیگر ناموں میں بنڈس ٹاگ
(Bundestag) کی صدر ژولیا کلوکنر (Julia
Klöckner), وفاقی وزیر تعلیم کارین پرین (Karin Prien) اور سی ڈی یو کی سابق سربراہ آنےگریٹ کرامپ
کارَین باؤر (Annegret Kramp-Karrenbauer)
شامل ہیں، جن سب کا تعلق کرسچین ڈیموکریٹک یونین (CDU) سے
ہے۔ میرکل نے صدراتی امیدواروں سے
متعلق جاری بحث کو ''عجیب‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ایک ''ناخوشگوار تاثر‘‘
بھی پایا جاتا ہے۔ انہوں
نے اپنی جماعت سی ڈی یو کی سیاسی سمت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پارٹی کی شناخت
صرف معاشی پالیسی تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ انجیلا میرکل کے بقول، ''سی ڈی یو ہمیشہ
معاشرے کے تمام طبقات کے درمیان پل بنانے کی سیاست کرتی رہی ہے اور اس پہلو کو
دوبارہ مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔‘‘