واشنگٹن: امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے
ہیں، جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اور ان کی پالیسیوں پر عوامی اعتماد کا اہم
امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابات
میں صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی اور اپوزیشن ڈیموکریٹس کے درمیان کانگریس کا
کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سخت مقابلہ ہوگا۔ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں
جبکہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستوں میں
گورنرز اور دیگر ریاستی عہدیداروں کا بھی انتخاب کیا جائے گا۔ انتخابات کے نتائج
نہ صرف امریکی قانون سازی بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی آئندہ حکمت عملی پر بھی گہرے
اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
امریکا میں ہر دو سال بعد کانگریس کے انتخابات منعقد ہوتے ہیں، جن
میں ایوانِ نمائندگان کی تمام نشستوں پر عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان کے ارکان دو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں، جبکہ سینیٹ کے ارکان کی
مدت چھ سال ہوتی ہے۔ سینیٹ کی تمام نشستوں پر بیک وقت انتخابات نہیں ہوتے بلکہ ہر
دو سال بعد تقریباً ایک تہائی نشستوں پر مقابلہ ہوتا ہے۔ رواں سال 33 معمول کی
نشستوں کے علاوہ دو خصوصی انتخابات بھی ہوں گے، یوں مجموعی طور پر سینیٹ کی 35
نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔
کانگریس کے ایوانِ نمائندگان میں اس وقت ریپبلکن پارٹی کو 218
نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 214 نشستیں ہیں۔ ایک آزاد
رکن بھی موجود ہے جبکہ دو نشستیں خالی ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کے لیے
218 نشستیں درکار ہیں، اس لیے ریپبلکنز کے لیے اپنا موجودہ کنٹرول برقرار رکھنا
ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس کو ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کم
از کم چار نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے۔
سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو 53 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہے،
جبکہ ڈیموکریٹس کے ساتھ دو آزاد سینیٹرز بھی وابستہ ہیں۔ سینیٹ کا کنٹرول حاصل
کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو موجودہ سیاسی تقسیم کے مطابق کم از کم چار نشستوں کا
خالص اضافہ کرنا ہوگا۔ 50، 50 نشستوں کی صورت میں نائب صدر جے ڈی وینس کا فیصلہ کن
ووٹ ریپبلکنز کے حق میں جا سکتا ہے۔ انتخابات
میں امریکی عوام کے لیے مہنگائی، ایندھن، خوراک، رہائش اور صحت کی سہولیات کے
بڑھتے اخراجات اہم انتخابی موضوعات ہیں۔ اس کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف
پالیسی، غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں، ایران جنگ اور مصنوعی ذہانت کے
شعبے کو ریگولیٹ کرنے کے معاملات بھی انتخابی مہم میں زیر بحث ہیں۔
وسط مدتی انتخابات کے نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اس لیے بھی اہم
ہیں کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں سے کسی ایک کا کنٹرول
حاصل کر لیتی ہے تو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے کانگریس سے نئے قوانین منظور کرانا مشکل
ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انتظامیہ کے مختلف اقدامات اور پالیسیوں کی نگرانی اور
تحقیقات کے لیے بھی ڈیموکریٹس کو زیادہ اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ان انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام
بیلٹ پیپر پر نہیں ہوگا، تاہم نتائج کو ان کی صدارت کے ابتدائی دور میں عوامی
حمایت کا اہم پیمانہ سمجھا جائے گا۔ انتخابات کے نتائج 2028 کے صدارتی انتخابات کے
لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں اور دونوں بڑی جماعتوں کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی،
قیادت اور ممکنہ صدارتی امیدواروں کی پوزیشن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یوں 3
نومبر کے انتخابات صرف کانگریس کی نشستوں کا مقابلہ نہیں بلکہ امریکی سیاست کے
مستقبل کی سمت متعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔