جاپانی
مسلم سکالر عمر میتا (Umar Mita) تاریخ میں پہلے ایسے
مسلمان ہیں جنہوں نے قرآنِ مجید کا جاپانی زبان میں مکمل اور مستند ترجمہ کر کے
ایک منفرد اعزاز حاصل کیا۔ 1892ء میں پیدا ہونے والے ریوئیچی میتا (Ryoichi Mita) نے 1941ء میں باقاعدہ اسلام قبول کیا اور اپنا اسلامی نام 'عمر'
رکھا۔ ان سے قبل جاپانی زبان میں قرآنِ پاک کے جتنے بھی تراجم موجود تھے، وہ تمام
غیر مسلم جاپانی محققین اور ماہرینِ لسانیات نے کیے تھے۔ عمر میتا (Umar Mita) نے عربی متن کو جاپانی زبان کے قالب میں ڈھالنے کے لیے ایک دہائی سے
زیادہ کا عرصہ انتھک محنت کی اور ان کی اس مخلصانہ کوشش کے نتیجے میں تیار ہونے
والے ترجمے کو مکہ مکرمہ میں 'رابطہ عالم اسلامی' سے باقاعدہ تصدیق اور منظوری
ملی، جس کے بعد یہ تاریخی شاہکار 1972ء میں پہلی بار شائع ہوا۔
ترجمے کا کام: انہوں نے 60 سال کی عمر میں عربی زبان سیکھنے اور قرآن پاک کا ترجمہ کرنے
کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ جاپان مسلم ایسوسی ایشن کے ساتھ 12
سال کی مسلسل محنت کے بعد، قرآن پاک
کا جاپانی زبان میں مسلمانوں کی جانب سے کیا گیا پہلا مکمل ترجمہ 10 جون 1972ء کو شائع ہوا۔ اس وقت میتا کی عمر 80
سال تھی۔
وفات : ان کا انتقال 1976ء میں 82 سال کی عمر میں ہوا۔