دنیا بھر میں معیاری وقت کے
تعین کے لیے دہائیوں سے استعمال ہونے والے لیپ سیکنڈ کے نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ
کر لیا گیا ہے۔ عالمی ادارہ برائے اوزان و پیمائش کے تحت ہونے والی کانفرنس میں 69
رکن ممالک نے متفقہ طور پر مئی 2027 سے لیپ سیکنڈ کا موجودہ نظام ختم کرنے کی
منظوری دی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد عالمی معیاری وقت کو برقرار رکھنے کے عمل کو آسان
بنانا اور کمپیوٹر سسٹمز، انٹرنیٹ سرورز، مواصلاتی نیٹ ورکس اور نیوی گیشن کے نظام
کو ممکنہ تکنیکی خرابیوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
لیپ سیکنڈ کا اضافہ 1972 میں شروع کیا گیا تھا، جس کے بعد اب تک
عالمی معیاری وقت میں 27 مرتبہ ایک اضافی سیکنڈ شامل کیا جا چکا ہے۔ اس طریقہ کار
کا بنیادی مقصد جوہری گھڑیوں کے ذریعے شمار کیے جانے والے وقت اور زمین کی قدرتی
گردش کے درمیان فرق کو محدود رکھنا تھا۔ زمین کی گردش کی رفتار مستقل نہیں رہتی،
جس کے باعث وقت کے ان دونوں پیمانوں میں بتدریج فرق پیدا ہوتا رہتا ہے۔
دنیا بھر میں معیاری وقت کے لیے مربوط
عالمی وقت (یو ٹی سی) استعمال کیا جاتا ہے، جس کا حساب انتہائی درست جوہری گھڑیوں
کی مدد سے رکھا جاتا ہے۔ دوسری جانب زمین کی گردش کی بنیاد پر دن اور رات کے
دورانیے کا تعین ہوتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان فرق کو ایک حد کے اندر رکھنے کے لیے
ضرورت پڑنے پر عالمی گھڑیوں میں ایک سیکنڈ کا اضافہ کیا جاتا رہا ہے، اس بظاہر
معمولی تبدیلی نے جدید ڈیجیٹل نظاموں کے لیے کئی پیچیدہ مسائل پیدا کیے ہیں۔ عالمی ادارے کے فیصلے کے مطابق نیا نظام 20 مئی
2027 سے نافذ ہوگا۔ اس کے تحت عالمی معیاری وقت اور زمین کی گردش کے درمیان فرق کو
زیادہ سے زیادہ 1 گھنٹے تک بڑھنے کی اجازت دی جائے گی، جس سے کم از کم کئی صدیوں
تک وقت میں اضافی سیکنڈ شامل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
حالیہ برسوں میں زمین کی گردش کی رفتار
میں تبدیلی نے وقت کے ماہرین کی تشویش بڑھا دی تھی۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ
اگر مستقبل میں منفی لیپ سیکنڈ کی ضرورت پڑی، یعنی گھڑی سے ایک سیکنڈ کم کرنا پڑا،
تو اس کے لیے تیار نہ ہونے والے نظاموں میں سنگین خرابیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اسی
خطرے کے پیش نظر لیپ سیکنڈ ختم کرنے کے فیصلے پر اتفاق کیا گیا۔ نئے نظام کو مسلسل عالمی معیاری وقت کا نام دیا گیا
ہے۔ اس میں جوہری گھڑیوں کے وقت کو برقرار رکھا جائے گا اور زمین کی گردش کے ساتھ
فرق کو فوری طور پر ایک سیکنڈ کی سطح پر درست کرنے کے بجائے بڑھنے دیا جائے گا۔ جب
یہ فرق 1 گھنٹے کے قریب پہنچے گا تو مستقبل میں اس کی اصلاح کے طریقے پر غور کیا
جائے گا۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق اس مرحلے تک پہنچنے میں کئی صدیاں لگ سکتی
ہیں۔
لیپ سیکنڈ ہےکیا؟
لیپ سیکنڈ (Leap Second)
وقت میں شامل کیا جانے والا ایک اضافی سیکنڈ ہے، جس کا مقصد گھڑیوں کے وقت کو زمین
کی گردش کے مطابق رکھنا ہے۔
آسان الفاظ میں سمجھیں:
عام وقت: ایک منٹ میں 60 سیکنڈ ہوتے
ہیں۔
لیپ سیکنڈ: جب جوہری گھڑیوں اور زمین
کی گردش کے وقت میں فرق بڑھ جاتا ہے تو ضرورت کے مطابق عالمی گھڑی میں 1 سیکنڈ کا
اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک منٹ میں عارضی طور پر 61 سیکنڈ شمار ہو سکتے ہیں۔ یہ کیوں ضروری تھا؟ جوہری گھڑیاں انتہائی درست
رفتار سے وقت بتاتی ہیں، لیکن زمین کی گردش کی رفتار میں معمولی تبدیلی آتی رہتی
ہے۔ لیپ سیکنڈ ان دونوں کے درمیان فرق کو کم رکھنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ مثال: فرض کریں گھڑی پر رات 11 بج کر 59 منٹ اور 59
سیکنڈ ہیں۔ عام طور پر اگلا وقت 12 بجے ہوگا، لیکن لیپ سیکنڈ شامل ہونے پر پہلے 11
بج کر 59 منٹ اور 60 سیکنڈ ہوں گے، پھر 12 بجیں گے۔
اب اسے ختم کیوں کیا جا رہا ہے؟
کیونکہ ایک سیکنڈ کا اچانک اضافہ
انٹرنیٹ سرورز، کمپیوٹرز، ٹیلی مواصلاتی نظام اور نیوی گیشن میں تکنیکی مسائل پیدا
کر سکتا ہے۔ اسی لیے عالمی سطح پر وقت کے نظام کو زیادہ مستحکم بنانے کے لیے لیپ
سیکنڈ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یاد
رہے، لیپ سیکنڈ اور لیپ ایئر (سال میں ایک اضافی دن) الگ چیزیں ہیں۔ لیپ سیکنڈ ختم
ہونے سے فروری میں 29 دن آنے کا نظام ختم نہیں ہوگا۔