سوڈان اور جنوبی سوڈان کی سرحد پر واقع متنازع اور تیل سے مالا
مال علاقے ابیئی میں ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 73 افراد ہلاک اور 19 زخمی
ہوگئے۔ جنوبی سوڈان کی وزارت خارجہ نے حملے پر احتجاج کرتے ہوئے جوبا میں تعینات
سوڈانی سفیر کو طلب کرلیا۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ابیئی کے
قائم مقام وزیر اطلاعات یوہان اکول نگور نے حملے کا الزام سوڈانی فوج پر عائد کیا
ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوڈانی مسلح افواج نے گزشتہ روز متعدد ڈرون مار گرائے تھے،
تاہم حملے میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد سے متعلق ان کا بیان سامنے
آیا ہے۔
جنوبی سوڈان کی وزارت
خارجہ کے مطابق ڈرونز نے ابیئی شہر کے شمال میں واقع ایک بازار کو نشانہ بنایا۔
وزارت نے شہری ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی، تاہم حملے پر گہری تشویش کا اظہار
کرتے ہوئے اسے سنگین معاملہ قرار دیا۔ وزارت خارجہ نے جوبا میں تعینات سوڈانی سفیر
کو طلب کرکے حملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان
پہلے سے متنازع علاقے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ طبی امدادی ادارے
ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے بتایا کہ اس کے طبی عملے نے قریبی امیتھ
بیک اسپتال میں 20 سے زائد زخمیوں کا علاج کیا ہے، جن میں بعض کی حالت تشویشناک
ہے۔ اسپتال میں ایم ایس ایف کی طبی سرگرمیوں کے منتظم کرسچن لِنڈاؤر کے مطابق
زخمیوں میں جھلسنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ اسپتال میں ہنگامی طبی امداد، سرجری
اور زخموں کی مرہم پٹی کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ابیئی تیل کے ذخائر سے مالا مال علاقہ ہے، جس کا انتظام
سوڈان اور جنوبی سوڈان مشترکہ طور پر چلاتے ہیں، تاہم دونوں ممالک اس پر ملکیت کا
دعویٰ کرتے ہیں۔ یہاں ماضی میں بھی تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جن میں حریف
نسلی گروہوں اور مسلح ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپیں شامل ہیں۔ گزشتہ سال بھی ابیئی
میں اقوام متحدہ کے ایک اڈے پر ڈرون حملے میں بنگلہ دیش کے چھ امن اہلکار ہلاک اور
آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔ بنگلہ دیش کی مسلح افواج نے اس واقعے کی تصدیق کی تھی۔ سوڈان
اپریل 2023 سے سوڈانی مسلح افواج اور نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف)
کے درمیان جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ اس تنازع میں مقامی مسلح گروہ اور غیر ملکی طاقتیں
بھی شامل ہوچکی ہیں، جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی
ہے۔اقوام متحدہ نے سوڈان کی صورت حال کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں شمار
کیا ہے۔ جاری لڑائی نے شہری آبادی کو شدید متاثر کیا ہے اور ملک میں انسانی امداد کی
ضرورت بڑھا دی ہے۔