چترال سے کچھ فاصلے پر ایک مقام آیون ہے جہاں سے پرائیویٹ گاڑیاں
کیلاش تک جاتی ہیں۔چونکہ آگے بڑی بڑی ڈھلوانیں اور خطرناک راستہ ہے اس لیے اپنی
گاڑی پر آیون سے آگے جانے کا خطرہ مول نہیں لیا جاسکتا۔وادی کیلاش کوہ ہندوکش کے
پہاڑی سلسلوں میں خوبصورت وادی ہے۔ کیلاش قبیلے کا منفرد کلچر اور زبان ہے۔یہ ایک
خدا ڈیزاو اور جانوروں کی بھی پوجا کرتے ہیں،جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کیلاشی
پولی تھیسٹ(کثیرالمذاہب ) ہیں۔کیلاش قبیلے کے کچھ لوگوں کے مطابق وہ صرف ایک ہی
خدا کی عبادت کرتے ہیں ،ان سے منسوب باقی سب باتیں درست نہیں۔کیلاش قبیلے کی اس
خطے میں آبادی کے حوالے سے بھی مختلف رائے پائی جاتی ہے۔بعض تاریخ دانوں کے نزدیک
یہ لوگ شام سے آئے ہیں جبکہ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ لوگ سکندر اعظم کی فوج
کا حصہ تھے ،تیسری صدی قبل مسیح میں سکندر اعظم کے اس علاقہ سے گزر کے دوران یہاں
رہ گئے تھے جہاں سے انکی نسل آگے بڑھی۔کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ دوسری صدی قبل
مسیح میں یہ لوگ وسطی ایشیاء سے ہجرت کرکے چترال پہنچے۔
ان
کی زبان کلاشہ ،کھوار ہے۔یہ لوگ نیچر سے بہت متاثر ہیں اور فطرت ہی انکی زندگی اور
روحانیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔کالے لباس پہننے کی وجہ سے انہیں ’’بلیک کافر ‘‘ بھی
کہا جاتا ہے۔کیلاشی خواتین اپنے مخصوص ایام اور بچے کی پیدائش کے وقت مخصوص جگہ پر
رہتی ہیں جسے’’ بھاشلینی‘‘ کہا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ گھر والے بھی اس سے نہیں ملتے۔کیلاشی
لوگوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ لوگ برسوں غسل نہیں کرتے جس سے ان کے بدن
سے بدبو آتی ہے۔مگر گلیما مقامی لوگوں سے جب اس حوالے سے معلومات حاصل کیں تو
معلوم ہوا کہ اب یہ لوگ غسل کرتے ہیں۔اگر کوئی شادی شدہ خاتون اپنا شوہر تبدیل
کرنا چاہے تو نئے بننے والے شوہر کو پہلے شوہر کی طرف سے دی گئی رقم سے دوگنا ادا
کرنا پڑتا ہے۔کیلاشی خواتین کو اپنے کلچر میں خاص اہمیت اور ملکہ حاصل ہے۔ زیادہ
ترگھر کے فیصلے خواتین کرتی ہیں۔ گھر بار، مویشیوں کی دیکھ بھال،کاشتکاری، حساب
کتاب وغیرہ خواتین کی ہی ذمہ داری ہے۔خواتین اپنے فیصلوں میں خود مختار ہیں۔
چلم
جوشی کا تہوار موسم بہار کی آمد پر ہر سال14مئی سے 16مئی تک پوری رعنائیوں سے منایا
جاتا ہے جبکہ اچاوتہوار خزاں جبکہ اہم تہوار کو دسمبر میں منایا جاتا ہے جو دو
ہفتوں تک جاری رہتا ہے۔ ان تہواروں کو دیکھنے کیلئے ہزاروں سیاح وادی کیلاش کا رخ
کرتے ہیں۔ یہ تہواروادی کیلاش کی روز مرہ زندگی او رمنفرد رہن سہن کو دنیا بھر میں
اجاگر کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ کیلاش کا علاقہ تین وادیوں ، ’’رمبور‘‘، ’’بریر‘‘
اور’’ بمبوریت‘‘ پر مشتمل ہے۔ موسم بہار کے آتے ہی تینوں وادیوں میں چلم جوشی کے
تہوار کو بھرپور طریقے سے منانے کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں مگر اس کا گڑھ بمبوریت
ہے جہاں3دن خوب میلہ لگتا ہے اور تینوں وادیوں سے کیلاشی یہاں جمع ہوکر خوشیاں
مناتے اور رسومات ادا کرتے ہیں۔
انکی روایات صدیوں پرانی اور منفرد ہیں ،خاص بات یہ ہے کہ یہ قبیلہ
آج بھی ان رسومات پر اسی طرح عمل پیرا ہے۔کیلاشی قبیلہ کے لوگ بہار کی آمد کی
خوشی میں ’’چلم جوشی‘‘ کا تہوار مناتے ہیں۔جب وادی کیلاش میں ہر طرف سبزہ اور یب کیلاشی
مقیم ہیںجن کی تعداد روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔اکثر مسلمان ہوتے جا رہے ہیں اور
کچھ علاقہ کو خیر باد کہہ رہے ہیں۔مقامی کیلاش قبیلے کے لوگوں نے بتایا کہ ان پر
کوئی زبردستی نہیں ہے ،مسلمان ان کا کافی خیال رکھتے ہیں۔خود ہی کیلاش قبیلے کے
لوگ مسلمان ہو رہے ہیں۔کیلاشی لڑکی جب کسی مسلمان سے شادی کرتی ہے تو وہ مسلمان ہو
جاتی ہے۔جب کوئی اس قبیلے میں فوت ہوتا ہے تو کیلاشی مردہ جسم کو لکڑی کے ایک ڈبے
میں رکھ دیتے ہیں۔پہلے لکڑی کے ڈبے کو بہا دیا جاتا تھا یا دوردراز کسی پہاڑی پر
رکھ دیا جاتا تھا
مگر لوگوں نے ادویات کیلئے مردوں کو باکس سے نکالنا شروع کردیا۔ اب
کیلاش کے لوگ مردہ کو مخصوص قبرستان میں لکڑی کے باکس میں رکھ دیتے ہیں۔کیلاش وادی
میں 12جماعتوں تک کی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت موجود ہے۔ٹیچرز مقامی ہیں۔کچھ
لڑکیاں چترال، اسلام آباد لاہور میں بھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔یہاں کی آمدن کا
بڑا ذریعہ کھیت باڑی ،مال مویشی پالنا ہے۔مکئی ،گندم یہاں کی مشہور فصلیں ہیں۔گندم
یہ لوگ خود استعمال کرتے ہیں۔اس کے علاوہ خوبانی اور اخروٹ بھی یہاں کافی مقدار
میں پائے جاتے ہیں۔
کیلاش
قبیلے کے لوگ کزنز کو بھی بھائی سمجھتے ہیں اور قریبی رشتوں جیسے فرسٹ کزن وغیرہ
سے شادی بھی جائز نہیں۔دور کے رشتہ داروں سے شادی جائز ہے۔یہ لوگ صرف اپنے قبیلے
میں شادی کرتے ہیں۔اگر کوئی مسلم یا قبیلے سے باہر شادی کرے تو یہ لوگ ناراض
ہوجاتے ہیں اور قطع تعلق کر لیتے ہیں۔جب لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کر لیتے
ہیں تو پھر لڑکے والے رشتہ مانگنے لڑکی والوں کے گھر جاتے ہیں۔اگر لڑکی کے گھر
والے نہ مانیں تو پھر لڑکا اور لڑکی بھاگ کر بھی شادی کر لیتے ہیں۔
کیلاش قبیلے میں پسند کی شادی کے علاوہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے
کا تصور بھی نہیں۔کیلاش قبیلے میں پسند کی شادی کو مذہبی درجہ حاصل ہے۔کیلاشی
خواتین زیادہ تر اپنے پارٹنر میں خوبصورتی اور خلوص دیکھتی ہیں۔جب لڑکی بھاگ کر
شادی کر لیتی ہے تو لڑکے کے گھر والے لڑکی کو سامان(جہیز ) دیتے ہیں۔جب لڑکی ایک
ماہ یا سال بعد واپس اپنے میکے آتی ہے تو جب دلہن بن کر واپس سسرال جانے لگتی ہے
تو اسکے ماں باپ بھی لڑکی کو سامان (جہیز ) دے کر بھیجتے ہیں۔
پہلے
کیلاشی خواتین کی کم عمری میں شادی کر دی جاتی تھی مگر اب پچیس چھبیس سال تک شادی
ہوتی ہے۔اگر کوئی کیلاشی لڑکی بھاگ کرکسی مسلم سے شادی کر لے ،تو اسکے گھر والے
ہمیشہ کیلئے اس سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔اگر کسی کیلاشی لڑکی کی زبردستی شادی کی
جا رہی ہو تو وہ دھمکی دیتی ہے کہ مسلمان ہو جائے گی۔اس طرح اکثر لڑکیاں اپنی پسند
کی شادی کروانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔کیلاش کے تہواروں میں شرکت کرنے والے اکثر
سیاح بھی کیلاشی لڑکیوں کو پرپوز کرتے ہیں۔کیلاشی لڑکیاں چونکہ اپنی کیئر کرتی ہیں
جبکہ لڑکے اس پر فوکس نہیں کرتے، اس لیے کیلاشی لڑکوں کی نسبت لڑکیاں زیادہ
خوبصورت نظر آتی ہیں۔کیلاشی لڑکیاں قدرتی طور پر خوبصورت نین و نقش اور سفید جلد
کی مالک ہیں مگر اس کے باوجود بھی آجکل کیلاشی لڑکیاں رنگ گورا کرنے والی کریمیں
بھی استعمال کر رہی ہیں۔
چلم جوشی اور اس طرح کے دوسرے تہواروں پر اکثر لڑکیاں بازار سے
ملنے والی رنگ گورا کرنے والی کریم بکثرت استعمال کرتی ہیں۔کیلاشی خواتین کو پڑھنے
کی مکمل آزادی ہے۔گھر والے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔کیلاشی خواتین کو تعلیم کیلئے
خصوصی وظائف بھی دئیے جاتے ہیں۔ تقریباً سبھی کیلاشی خواتین سلائی کڑھائی اور
کھانا بنانے کا ہنر جانتی ہیں۔اپنے ملبوسات خود ہی سلائی کرتی ہیں۔کیلاشی ملبوسات
بازار سے نہیں ملتے چونکہ ان ملبوسات کو بنانا بہت مشکل کام ہے۔ایک لباس کی تیاری
میں10 ہزار کا خرچہ آتا ہے
اگر کسی درزن سے سلائی کروائیں تو وہ 1ہزار روپے لیتی ہے۔ کیلاشی
لڑکی موبائل فون استعمال کرتی ہے۔تہوار کے موقع پر کیلاشی خواتین اپنی سجاوٹ کا
خصوصی اہتمام کرتی ہیں اور گھر سے ہی تیار ہو کر آتی ہیں۔نہ چاہتے ہوئے بھی
کیلاشی خواتین کو اپنے کلچر کے تمام پہلووں پر عملدر آمد کرنا پڑتا ہے۔جیسے بھاری
بھرکم لباس دن رات پہننا کیلاشی خاتون کیلئے بہت مشکل ہے جس کا چوری چھپے اظہار
بھی کیا جاتا ہے ،مگر تمام مشکلات کے باوجود وہ اسکو ترک کرنے کا سوچ بھی نہیں
سکتی چونکہ کیلاشی لوگ سمجھتے ہیں کہ اگریہ لباس پہننا چھوڑ دیا تو کلچر کو گزند
پہنچے گی۔
کیلاشی
لوگ لکڑی اور پتھر سے گھر بناتے ہیں۔کھانا پکانے کیلئے لکڑی اور گیس کا استعمال
کیا جاتا ہے۔ایک گھر میں 6 سے7 لوگ رہتے ہیں۔یہاں زراعت اور مویشی پالنا من پسند
مشغلہ ہے مگر اب کافی کیلاشی لوگ ملازمت بھی کر رہے ہیں۔لوبیا یہاں کی سب سے معروف
اور خوش ذائقہ ڈش ہے جسے ہر کیلاشی شوق سے پکاتا اور کھاتا ہے۔
جب
کوئی کیلاشی وفات پاتا ہے تو اسکوباکس میں رکھ دیا جاتا ہے۔خاتون کو ایک دن اور
مرد کو دو دن کیلئے اس میں رکھا جاتا ہے۔اس کے بعد دفنا دیا جاتا ہے۔کیلاش کے لوگ
ایک سے دوسرے فیسٹول تک اس کا سوگ مناتے ہیں۔فوتیدگی کے وقت تینوں وادیوں سے کیلاش
کے لوگ شرکت کرتے ہیں ،فوتگی والے گھر سات دن تک کھانا نہیں بنتا۔تینوں وادیوں کے
لوگ ملکر کھانا بناتے ہیں،جوار کی روٹی اور بکری کو ذبح کرکے اسکا سالن بنایا جاتا
ہے۔سات دن تک فوتگی والے گھر میں بیٹھا جاتا ہے۔
چلم
جوشی فیسٹول کی بات کریں تو اس تہوار کی تقریبات کا آغاز 12مئی سے ہوجاتا ہے۔اس
دن بمبوریت سے بزرگ پھول توڑ کر سوگ میں رہنے والے گھر انوں میں جاتے ہیں اور انکا
سوگ ختم کراتے ہیں۔13مئی کو بچے بڑے پھول ،اخروٹ کے پتوں سے گائوں کو سجاتے
ہیں۔14مئی کو جتنا بھی دودھ ہوتا ہے ہر گھر میں بانٹ دیا جاتا ہے۔ 15مئی کو ایک
سال قبل جتنے بھی اس دن بچے پیدا ہوتے ہیں ،ان کولیکر پہاڑی پر جا کر رسومات ادا
کرتے ہیں۔نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں ،دودھ کو چہروں پر ڈال دیتے ہیں۔فراغت کے بعد سب
لوگ بتریک پہنچ جاتے ہیں
جہاں پر ڈانس کیا جاتا ہے۔16مئی کو صبح سویرے ناشتے کے دوران
دعائیں مانگی جاتی ہیں۔دو بجے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو الگ کیا جاتا ہے اور خصوصی
دعائیں کی جاتی ہیں۔ایک گھنٹہ تک دعاوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔کیلاش لڑکے ماہادیو
عبادت خانے سے دعائیں مانگ کر نیچے آجاتے ہیں۔لڑکے پتے لڑکیوں کو مارتے ہیں پھر
سب ملکر ڈانس کرتے ہیں ،اس موقع پر دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آجاتے ہیں۔جب تک کوئی
کیلاشی چاہے اس مقام پر ناچتا رہتا ہے۔ایک پارٹی تھک جائے تو وہ آرام کرنے بیٹھ
جاتی ہے اور پھر دوسری پارٹی ڈانس میں شامل ہوجاتی ہے۔تہوار کے موقع پر جب کیلاشی
لڑکی گھر سے نکلتی ہے تو اسے نصیحت کی جاتی ہے کہ کسی بھی اجنبی لڑکے سے بات نہ
کرے۔کیلاشی لڑکیاں چہرہ اس لیے چھپاتی ہیں چونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ آجکل انٹرنیٹ
پر تصاویر کا غلط استعمال کیا جاتا ہے اس لیے وہ اجنبی لوگوں کیساتھ تصاویر بنوانے
میں احتیاط برتتی ہیں۔کیلاش میں کرکٹ ،فٹ بال ،والی بال ،ٹینس ،بیڈ منٹن کا کھیل
کافی مقبول ہے۔کیلاشی بچوں اور چند خواتین میں بھیک مانگنے کا رجحان بھی بڑھتا جا
رہا ہے۔اکثر بچے زبردستی پیسے مانگنے لگ جاتے ہیں۔