مائیکروسافٹ نے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ذاتی
کمپیوٹرز تک محدود کرنے کے بجائے ان کی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے جدید ترین اے
آئی ماڈلز، سیکیورٹی ٹیکنالوجی اور سرفیس لیپ ٹاپ الٹرا متعارف کرا دیے ہیں۔
کمپنی کا بنیادی مقصد ونڈوز ڈیوائسز کو ایسے اے
آئی ایجنٹس کے لیے پلیٹ فارم بنانا ہے جو پیچیدہ کاروباری منصوبوں اور کوڈنگ جیسے
مشکل کام مقامی سطح پر انجام دے سکیں۔ مائیکروسافٹ
نے اس پیش رفت کے دوران این ویڈیا کی طاقتور چپس سے لیس سرفیس لیپ ٹاپ الٹرا پیش
کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت اب وہ کام جو ماضی میں صرف مہنگے ایژور کلاؤڈ ڈیٹا
سینٹرز تک محدود تھے، اب براہ راست صارف کے اپنے ونڈوز کمپیوٹرز پر باآسانی مکمل
کیے جا سکیں گے۔ کمپنی کا ویژن ڈیسک ٹاپ کو اے آئی ایجنٹس کے لیے محفوظ ترین
مقام بنانا ہے۔ جدید
اے آئی ایجنٹس کے ساتھ پیدا ہونے والے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے
مائیکروسافٹ نے ایم ایکس سی نامی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔
کمپنی آفیشلز کا کہنا ہے کہ یہ نظام اے آئی ایجنٹس
کو صارف کی اجازت کے بغیر حساس ڈیٹا یا سسٹم تک رسائی حاصل کرنے سے روکے گا۔
اینتھروپک، اوپن اے آئی اور این ویڈیا جیسی بڑی کمپنیاں بھی اب ان سیکیورٹی ٹولز
کو استعمال کریں گی۔ کمپنی
نے ایسے جدید ماڈلز بھی پیش کیے ہیں جو کلاؤڈ کنکشن کے بغیر پی سی پر چل سکتے ہیں،
جن میں این ویڈیا کا نیماٹرون ماڈل بھی شامل ہے۔ ڈیپ سیک کا نیا ورژن بھی ان
کمپیوٹرز پر کارگر ہوگا جن میں 60 گیگا بائٹ میموری موجود ہے۔ تاہم، ہارڈویئر کی
بڑھتی ہوئی قیمتیں اس ٹیکنالوجی کے بڑے پیمانے پر نفاذ میں ایک رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ مائیکروسافٹ کے سرفیس لیپ ٹاپ الٹرا
کی قیمت 2,599 ڈالر سے شروع ہوتی ہے، جو کہ 5,899 ڈالر تک جا سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سافٹ ویئر کے لحاظ سے
یہ ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن میموری چپس کی قلت کے باعث ہارڈویئر کی بڑھتی ہوئی
قیمتیں عام صارفین کے لیے اس طاقتور اے آئی ٹیکنالوجی تک رسائی کو مشکل بنا سکتی
ہیں۔