ماسکو میں روس سے متعلق بین الاقوامی
ماہرین کے والڈائی فورم سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ
ایرانی قوم کی ہمت، بہادری اور ثابت قدمی نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے اور
عالمی برادری کی نظریں اس صورتحال پر مرکوز ہیں۔ روسی صدر نے امریکی حملوں کے
سامنے ایرانی عوام کی شجاعت کو سراہتے ہوئے تہران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار
کیا۔ انہوں نے اس بات کا بھی عزم ظاہر کیا کہ جب تک مغربی پابندیاں نہیں ہٹائی
جاتیں، روس عالمی منڈیوں کو ڈیزل فراہم نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے خبردار کیا کہ
یوکرین کے روسی تیل صاف کرنے والے کارخانوں پر حملوں کے نتیجے میں روس کو اپنی
مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے 1 فیصد کے برابر نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے
مزید کہا کہ بڑی طاقتوں کا تکبر اور حد سے زیادہ خود اعتمادی موجودہ عالمی کشیدگی
میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں، جو دنیا کو کسی بھی وقت بڑی تباہی کے دہانے پر لے
جا سکتی ہیں۔ خطاب کے دوران روسی صدر نے مؤقف اختیار کیا کہ بڑے ممالک کے پاس ایسے
خطرناک ہتھیار موجود ہیں جو زمین پر زندگی کا نام و نشان مٹا سکتے ہیں، لہذا بڑے
پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مکمل طور پر رد
نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس بڑے خطرے کو مدنظر
رکھتے ہوئے ہولناک صورتحال سے بچنا ہوگا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر
کیلیننگز کو خطرہ لاحق ہوا تو روس اپنے ذخیرے میں موجود تمام اقسام کے ہتھیاروں کے
استعمال پر غور کرے گا۔
دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس کسی ملک پر
حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم نیٹو کی جانب سے روس پر براہِ راست حملہ کیا
گیا تو ماسکو اپنے پاس موجود تمام ہتھیار استعمال کرے گا۔ ڈسکشن کلب ’والدائی‘ کے
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ اگر روسی فیڈریشن پر براہِ راست حملہ
ہوا، بالخصوص کالینن گراڈ کے تناظر میں، تو یہ سوال پیدا ہوگا کہ روس اپنے تمام
دستیاب ہتھیار استعمال کرے۔ روسی صدر کا کہنا تھا کہ کون سے ہتھیار استعمال کیے
جائیں گے، اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روس کے پاس
ایسے ہتھیار موجود ہیں جن کی مثال دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملتی۔
پیوٹن نے کہا کہ روس کی یہ صلاحیت اسے یورپ کی 2 جوہری طاقتوں، فرانس
اور برطانیہ، کے مقابلے میں برتری فراہم کرتی ہے۔ روسی صدر نے اپنے بیان میں روسی
وزارت خارجہ کے اس خط کا بھی حوالہ دیا جس میں نیٹو کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر
’کالینن گراڈ‘ کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی گئی تو روس جوہری ہتھیار استعمال کرنے
کے لیے تیار ہے۔ پیوٹن نے وزارت خارجہ کے خط کو دھمکی قرار دینے کے بجائے روس کو
ڈرانے کی کوششوں کا جواب قرار دیا۔
واضح رہے کہ کالینن گراڈ روس کا ایک علیحدہ خطہ ہے جو بحیرہ بالٹک کے
ساحل پر پولینڈ اور لتھوانیا کے درمیان واقع ہے۔ یہ روس کے مرکزی علاقے سے
جغرافیائی طور پر الگ ہے۔ دوسری عالمی جنگ سے قبل کالینن گراڈ جرمنی کا حصہ تھا
اور اسے کونیگس برگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ جنگ کے بعد یہ سوویت یونین کا حصہ بن
گیا۔ کالینن گراڈ میں روس کے اہم فوجی اڈے، میزائل نظام اور بحری تنصیبات موجود
ہیں، جس کے باعث یہ روس اور نیٹو کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا
ہے۔