غزہ میں جنگ بندی کو ایک سال گزر چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عرب اتحادیوں کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے سے جنگ ختم ہونے کی امید پیدا ہوئی تھی لیکن اسرائیلی
حملے اب بھی جاری ہیں اور تباہ حال علاقے میں امن دور دکھائی دیتا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر فوجی
کارروائیاں رکیں، زندہ بچ جانے والے باقی تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو حماس کی قید
سے رہا کرایا گیا اور غزہ تک انسانی امداد کی رسائی میں بھی کسی حد تک اضافہ
ہوا۔ تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے، نئی فلسطینی انتظامیہ کے قیام اور علاقے کے نصف
سے زیادہ حصے پر اسرائیلی کنٹرول کے خاتمے سے متعلق شقوں پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ جنگ سے تباہ حال اسی ساحلی پٹی میں
تعمیر نو بھی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ دیگر معاملات پر پیش رفت حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے مشروط
ہے۔ یاد رہے کہ حماس کو امریکہ اور یورپی یونین سمیت متعدد ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں جبکہ حماس اسرائیل کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتی۔ دوسری جانب حماس اور ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات پر بیک وقت عمل
ہونا چاہیے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے موسم گرما میں اپنا مؤقف مزید سخت کر لیا اور اپنے اہم
ترین اتحادی ٹرمپ کی مخالفت بھی کی۔ اسی ماہ اسرائیل میں انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔ اس سیاسی کشمکش کے باعث غزہ کے تقریباً بیس لاکھ فلسطینی غیر یقینی صورتِ حال
میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بیشتر افراد چوہوں سے متاثرہ خیمہ بستیوں، اپنے تباہ شدہ محلوں
کے ملبے یا ایسی عمارتوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں جن کے منہدم ہونے کا خطرہ ہے۔
شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں عبداللہ ابو زبیدہ کا خاندان
اپنے گھر کے ملبے سے بنائی گئی ایک عارضی پناہ گاہ میں رہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا،
''جب گزشتہ اکتوبر جنگ بندی شروع ہوئی تو ہمیں توقع تھی کہ جنگ رک جائے گی، ہلاکت خیز حملے بند ہو جائیں گے اور
امداد پہنچنے لگے گی۔ ‘‘ ان کے مطابق ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوا۔ شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیا سے جنوبی شہر خان یونس منتقل
ہونے والے نعمان ابو جراد اور ان کے خاندان کے لیے بھی جنگ بندی نے گھر واپسی کی کوئی واضح راہ نہیں کھولی۔
پانچ بیٹیوں سمیت ان کا خاندان اب بھی خیموں میں رہ رہا ہے۔
معاہدے سے امیدیں بڑھیں، مگر وعدے پورے نہ ہوئے
بائیڈن اور ٹرمپ انتظامیہ کے ادوار میں کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد طے پانے والے بیس نکاتی معاہدے نے بڑے
پیمانے پر فوجی کارروائیاں رکوانے اور حماس کے سات اکتوبر 2023ء کے حملے میں
یرغمال بنائے گئے باقی تمام اسرائیلیوں کی واپسی ممکن بنائی تھی۔ اسی دہشت گردانہ
حملے نے موجودہ جنگ کو جنم دیا تھا۔ حماس کی قیادت میں حملہ آوروں نے اس روز تقریباً بارہ سو افراد کو ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اسرائیل نے بڑے پیمانے پر بمباری اور زمینی کارروائیوں کے
ذریعے جواب دیا، جن میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 74 ہزار سے زیادہ
فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ وزارت حماس کے زیرِانتظام حکومت کا حصہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے اور آزاد ماہرین اس کے ریکارڈ کو عمومی طور پر قابل اعتماد سمجھتے ہیں تاہم یہ
اعداد و شمار شہریوں اور جنگجوؤں میں فرق نہیں کرتے۔ وزارت کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تقریباً نصف
خواتین اور بچے تھے۔ جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں ہم آہنگی کے ایک نئے دور کی امید
ظاہر کی تھی۔ معاہدے کے حوالے سے منعقدہ سربراہی اجلاس میں انہوں نے کہا تھا، ''
یہ ہمیں زندگی میں ایک بار ملنے والا موقع ہے کہ ہم پرانی دشمنیوں اور تلخ نفرتوں
کو پیچھے چھوڑ دیں۔‘‘
اسرائیلی انخلا کے بجائے کنٹرول میں اضافہ
معاہدے کے تحت حماس کو اقتدار ایک ایسی کمیٹی کے حوالے کرنا تھا جس
میں فلسطینی منتظمین شامل ہوں اور جس کی منظوری ٹرمپ کی سربراہی میں قائم بورڈ آف پیس دے۔ اس ادارے کو جنگ بندی پر عمل درآمد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ حماس نے جولائی میں اپنی حکومت باضابطہ طور پر تحلیل کر دی، لیکن
سرکاری ملازمین اور انتظامی ڈھانچا برقرار رکھا۔ غزہ کے تقریباً 40 فیصد حصے میں،
جہاں اسرائیلی فوج کا کنٹرول نہیں، حماس اب بھی سب
سے طاقت ور قوت ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے نئی فلسطینی انتظامیہ کو مصر کے راستے غزہ میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔
غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کا اعلان
فروری میں کیا گیا تھا، لیکن یہ فورس اب تک تشکیل نہیں دی جا سکی۔ انڈونیشیا نے اس
کے لیے آٹھ ہزار فوجی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ایران جنگ کے باعث عالمی توجہ منتقل ہونے کے بعد گزشتہ موسم بہار میں اس نے اپنے منصوبے روک دیے۔ معاہدے کے مطابق اسرائیل کو غزہ سے فوج واپس بلانا تھی، لیکن اس کے برعکس اس نے مزید
علاقے پر قبضہ کر لیا اور نام نہاد 'یلو لائن‘ کو بحیرۂ روم کی جانب مزید مغرب
میں دھکیل دیا۔ اسرائیلی فوج ان افراد کو بھی باقاعدگی سے نشانہ بناتی رہی ہے
جن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی، یلو لائن کے قریب آنے یا سات
اکتوبر کے حملے میں شریک ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ان حملوں میں اکثر عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں
1,400 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسی عرصے میں غزہ میں ہونے والے وقفے وقفے سے حملوں میں پانچ
اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات
جولائی میں ٹرمپ نے حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک معاہدے کا
اعلان کیا تھا اور اسے طویل عرصے سے تعطل کا شکار امن عمل میں اہم پیش رفت قرار
دیا تھا۔ اس معاہدے میں حماس کے غیر مسلح ہونے کے لیے
''بتدریج، مرحلہ وار اور مقررہ مدت کے اندر‘‘ عمل درآمد کی بات کی گئی تھی، جسے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا سے منسلک کیا گیا تھا۔ حماس نے
پہلی مرتبہ غیر مسلح ہونے پر رضامندی ظاہر کی، لیکن اس کے ساتھ اسرائیلی حملے بند
کرنے اور غزہ سے فوج واپس بلانے کی شرط بھی رکھی۔ چند روز بعد نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے
تک اسرائیل غزہ کے کسی بھی حصے سے انخلا نہیں کرے گا۔ یوں انہوں نے ٹرمپ کے اعلان کردہ معاہدے کو واضح
طور پر مسترد کر دیا۔ دونوں اتحادیوں کے درمیان یہ غیر معمولی اختلاف ایسے وقت سامنے آیا،
جب نیتن یاہو 27 اکتوبر کے انتخابات سے قبل اپنے قوم پرست حامیوں کی حمایت برقرار
رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان انتخابات سے اسرائیل میں ان کے طویل سیاسی دور کے خاتمے کا امکان بھی
ہے۔
سات اکتوبر کے حملے سے پہلے سکیورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامیوں پر
نیتن یاہو کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ ان کے مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ وہ حماس کے معاملے میں نرم
رہے۔ اس صورتِ حال میں غزہ کے حوالے سے معمولی سمجھوتے کی
گنجائش بھی محدود ہو گئی ہے، کم از کم اس وقت تک جب تک نئی حکومت تشکیل نہیں پاتی،
جس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ فی الحال غزہ میں تعمیر نو تقریباً شروع نہیں ہوئی، حماس کمزور
ہونے کے باوجود اقتدار میں ہے اور جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان بھی ختم نہیں ہوا۔