2016 میں
ہوئے ریفرنڈم میں برطانیہ نے معمولی فرق سے یورپی یونین (ای یو) سے الگ ہونے کے حق
میں ووٹ دیا تھا۔ جیسا کہ اندیشہ تھا، اس قدم نے تجارتی ترقی اور کاروباری لین دین
کی رفتار سست کر دی۔ جیسے جیسے بیرونی طلب میں کمی آئی، پیداوار میں بھی گراوٹ
آئی۔ بے روزگاری بڑھی اور مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کو زبردست دھچکا لگا۔
ایک دہائی بعد اب برطانوی عوام کو احساس ہو چکا ہے کہ بریگزٹ ایک تاریخی بھول تھی۔
حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے اشارہ ملتا ہے کہ اگر آج دوبارہ ریفرنڈم کرایا جائے
تو برطانوی شہری یورپی یونین میں دوبارہ شامل ہونے کے حق میں فیصلہ کن ووٹ دیں گے۔
2 سال قبل
برطانیہ کی لیبر پارٹی زبردست اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی۔ اس کے وزیر اعظم
کیر اسٹارمر نے عوام کی اس خواہش کو بھانپ لیا تھا، لیکن لیبر پارٹی کے انتخابی
منشور میں اسے واضح طور پر مسترد کیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا وعدہ تھا جسے اسٹارمر
توڑ نہیں سکتے تھے، اس کے باوجود انھوں نے کچھ ضروری اشیا کے لیے یورپی یونین کے
ساتھ تجارت کی راہ آسان بنائی۔ ان کے جانشیں اینڈی برنہم یورپی یونین کے ساتھ
دوبارہ ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت کے بارے میں کہیں زیادہ کھل کر اظہار خیال
کرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں، ہاؤس آف کامنز میں
اپنی تقریر کے دوران انھوں نے کہا کہ مستقبل کے تعلقات کے امکانات تلاش کرنے کے
لیے 20 نومبر کو برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان ایک سربراہی اجلاس منعقد کیا
جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر ہم اقتصادی ترقی کو رفتار دینے، امیگریشن پر قابو
پانے اور اپنی اقدار و سلامتی کے معاملے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو یہ ایسی بات چیت
ہے جسے ہمیں آگے بڑھانا ہی ہوگا۔‘‘ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ہماری فوری ترجیح
اس سربراہی اجلاس کے کامیاب نتائج حاصل کرنا ہے اور میرا ماننا ہے کہ اس کے بعد
ہمیں طویل مدتی تعلقات کے مختلف متبادل پر سنجیدہ بات چیت شروع کرنی چاہیے۔‘‘
برنہم دراصل اسٹارمر کے اس موقف پر قائم رہے کہ 2029 میں ہونے والے
اگلے عام انتخابات سے پہلے یورپی یونین میں واپسی نہیں ہوگی۔ تاہم، اس عمل کو تیز
کرنے کے لیے قبل از وقت انتخابات کرانے کا اختیار برنہم کے پاس ہے۔ انھوں نے اس کا
واضح اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہر قدم پر برطانوی عوام ہی سب سے مقدم ہوں گے اور
مجھے پورا یقین ہے کہ عوامی رائے اس وقت اسی عملی نقطۂ نظر کے ساتھ ہے جس کی میں
تجویز پیش کر رہا ہوں۔‘‘
جون 2016 کے اس بدقسمت دن، جب برطانیہ نے یورپی یونین سے باہر
نکلنے کا فیصلہ کیا تھا، اس وقت بزرگ آبادی، سفید فام محنت کش طبقے اور برطانوی
ہندوستانیوں کے ایک حصے نے فیصلہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ دوسری جانب،
یورپی یونین میں برقرار رہنے کے فیصلے کو یقینی سمجھ کر مطمئن نوجوان جشن منانے
میں مصروف رہے اور گھروں سے باہر نہیں نکلے۔ اب وہ شدید مایوس ہیں، کیونکہ وہ
یورپی یونین کے ممالک میں بلا روک ٹوک آ جا نہیں سکتے اور انھیں یورپی ہوائی اڈوں
پر لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ چنانچہ وہ پرانے نظام میں واپس لوٹنے کے
لیے بے تاب ہیں، جسے تمام اشاروں کے مطابق یورپی ممالک بھی پسند کریں گے۔
امیگریشن اس وقت برطانیہ کا ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے۔ انتہائی دائیں
بازو کی جماعت ’ریفارم یو کے‘ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی حمایت کی بنیاد غیر ملکیوں کو
ملک سے باہر رکھنے پر قائم ہے۔ جب پارلیمنٹ میں پوچھا گیا کہ کیا برطانوی انتظامیہ
کے لیے اب اپنی سرحدوں پر کنٹرول رکھنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے تو برنہم نے جواب دیا
کہ ’’امیگریشن کو کنٹرول کرنے کے معاملے میں آج ہماری صورت حال ٹھیک دس سال پہلے
کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور ہے۔‘‘ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بریگزٹ کے بعد
برطانیہ کا ’یوروڈیک‘ ڈاٹابیس سے رابطہ ٹوٹ گیا، جس میں پناہ گزینوں کا بایومیٹرک
ڈیٹا درج رہتا ہے۔
ریفارم، جو اس وقت ’بریگزٹ پارٹی‘ کے نام سے کام کر رہی تھی، لوگوں
کی آزادانہ نقل و حرکت کی سخت مخالف تھی، جس کا احترام کرنا یورپی یونین کے ہر رکن
ملک کے لیے لازمی تھا۔ برطانیہ میں آج بھی یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے۔ اسی لیے
ہاؤس آف کامنز میں برنہم سے براہ راست سوال کیا گیا کہ کیا وہ ’آزادانہ نقل و حرکت
بحال نہ کرنے‘ کی تصدیق کریں گے؟ انھوں نے جواب دیا، ’ہمیں طویل مدتی تعلقات کے
لیے دستیاب متبادل کا جائزہ لینا ہوگا۔‘ یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے دوبارہ
انضمام کے سوال پر ریفارم پارٹی اب دفاعی موقف اختیار کرنے لگی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ
اپنے کٹر حامیوں کو چھوڑ کر اس کا پرانا موقف اب اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔
برنہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ برطانوی شہری معاشی تنگی سے چھٹکارا
چاہتے ہیں اور وہ تقریباً اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ یورپی یونین میں دوبارہ
شامل ہونا ہی اس کا حل ہے۔ مشاورتی فرم ’فرنٹیئر اکنامکس‘ کے ایک مطالعے کے مطابق،
یورپی یونین سے دوبارہ وابستگی اختیار کرنے سے طویل مدت میں برطانیہ کی جی ڈی پی
میں 2.5 سے 3.6 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے برطانیہ اور یورپی یونین کے
تعلقات کی نئی تشکیل اب یقینی دکھائی دیتی ہے، اگرچہ فی الحال ہمیں نئے نظام کی
حقیقی شکل کا درست اندازہ نہیں ہے۔