اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا گیا ہے کہ غزہ میں
دوبارہ جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے جسے ہر صورت روکنا ہو گا جبکہ مغربی کنارے کی
صورتحال انتہائی کشیدہ ہے جو اب نقطہ اشتعال کے قریب پہنچ گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ امن
عمل کے لئے اقوام متحدہ کے قائم مقام خصوصی رابطہ کار رامز الاکباروف Ramiz
Alakbarov نے سلامتی کونسل کو غزہ
اور مغربی کنارے کے حالات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں مایوسی
بڑھتی جا رہی ہے۔ جنگ بندی کو ایک سال گزر چکا ہے لیکن بہت سے افراد کی زندگیوں
میں بہتری نہیں آئی۔ یہ بے اطمینانی اور مایوسی غیر معینہ مدت تک برقرار نہیں رہ
سکتی۔ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خطرات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ
مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو اپنی جان و مال اور روزگار سے متعلق مسلسل
خطرات کا سامنا ہے۔ انہیں محدود اور ایک دوسرے سے الگ تھلگ علاقوں کی طرف دھکیلا
جا رہا ہے جس سے مستقبل کی خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے ضروری جغرافیائی
تسلسل متاثر ہو رہا ہے۔
رامز الاکباروف Ramiz Alakbarov نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران
عالمی برادری نے دو ریاستی حل کے لئے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا تھا۔ اب وقت
آگیا ہے کہ اس حمایت کو زمینی حقائق بدلنے کے لئے مربوط اور فیصلہ کن اقدامات میں
تبدیل کیا جائے۔ عالمی برادری کے سامنے راستہ واضح ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کو
حقیقی بحالی اور پائیدار سیاسی تصفیے کی بنیاد بنانا ہو گا۔ انہوں نے پورے مقبوضہ
فلسطینی علاقے سے قبضے کے خاتمے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ
فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کو امن کے حصول اور تنازع کے خاتمے کے لئے ایک
قابل اعتبار راستے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں دنیا کو محض بیانات سے آگے بڑھ کر
ایسے ٹھوس اور فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے جن سے دونوں قوموں کے لئے سلامتی اور
باوقار زندگی کے امکانات یقینی بنائے جا سکیں۔ رامز
الاکباروف Ramiz Alakbarov نے اس مشترکہ ہدف کے حصول
کی جانب کوششیں جاری رکھنے پر بھی زور دیا کہ اسرائیل اور فلسطین دونوں ریاستیں
یروشلم کو اپنا مشترکہ دارالحکومت بناتے ہوئے امن و سلامتی کے ساتھ ایک دوسرے کے
ساتھ رہیں۔
سلامتی کونسل کااہم اجلاس طلب
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال بالخصوص فلسطینی مسئلے پر غور کے لئے
سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں70 مقررین شرکت کر رہے ہیں۔ شرکاء میں عرب ممالک، عرب
لیگ اور یورپی یونین کے نمائندوں کے علاوہ سلامتی کونسل کے اراکین اور اقوام متحدہ
میں اسرائیل اور فلسطین کے نمائندے بھی شامل ہیں۔