بھارت میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش
کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے احتجاج کو روکنے کے لیے حکام نے نئی دہلی میں
سخت سیکیورٹی اقدامات کرتے ہوئے 2 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار
افراد میں کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈِپکے اور جماعت کے 2 سینیئر رہنما
بھی شامل ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے
مطابق ہفتے کو دارالحکومت میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد تعینات کی
گئی، جبکہ مرکزی کاروباری علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل اور متعدد میٹرو
اسٹیشنز اور بازار بند کر دیے گئے۔ احتجاج کا اہتمام کاکروچ
تحریک نے کیا تھا، جس کا مقصد چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کرنا تھا۔
ناقدین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے وزیراعظم نریندر مودی کی
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچایا گیا۔
حکام نے وسطی دہلی کے جنتر منتر
علاقے کو مظاہرے سے پہلے ہی سیل کر دیا۔ بھارتی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام
ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ دہلی میں 2 ہزار سے زائد افراد کو
حراست میں لیا گیا، جبکہ مقامی میڈیا کے مطابق ممبئی میں بھی تقریباً 400 مظاہرین
کو پکڑا گیا۔ پولیس نے فوری طور پر ان کارروائیوں پر تبصرہ نہیں کیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے
مطابق اس کے بانی ابھیجیت ڈِپکے اور 2 سینیئر رہنماؤں سورَو داس اور آشوتوش رانکا
کو ممبئی سے دہلی پہنچنے والی پرواز سے اترتے ہی حراست میں لے لیا گیا۔ تحریک نے
رہنماؤں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا اور احتجاج جاری
رکھنے کا اعلان کیا۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی
حقوق نے مظاہروں سے پہلے اور دوران ہونے والی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں پر تشویش
ظاہر کی۔ ترجمان تھامین الخیتان نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ پُرامن اجتماع کے حق
کا احترام یقینی بنایا جائے اور مظاہرین کے خدشات دور کرنے کے لیے بامعنی مذاکرات
کیے جائیں۔احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اپوزیشن جماعتیں ووٹر فہرستوں
سے اندراجات خارج کیے جانے پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے
مطابق انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کے دوران تقریباً 13 کروڑ اندراجات نکالے گئے،
جن میں 6 کروڑ 30 لاکھ افراد کے دوسری جگہ منتقل ہونے، 3 کروڑ افراد کا سراغ نہ
ملنے اور 2 کروڑ 80 لاکھ افراد کے انتقال کر جانے کے اندراجات شامل تھے۔
الیکشن کمیشن اور بی جے
پی نے کسی بھی غلط کاری کے الزامات مسترد کیے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ نظرثانی کے
دوران خارج کیے گئے اہل ووٹر دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں، جبکہ اپوزیشن کا مؤقف ہے
کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں نے حالیہ ریاستی انتخابات کے نتائج کو متاثر کیا۔