ضلعی صدر پاکستان تحریک انصاف پشاور عرفان سلیم نے صوبے میں
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف آج بروز پیر 12 اکتوبر کو پشاور میں
احتجاج کی کال دے دی ہے۔ جاری بیان کے مطابق احتجاج ہشتنگری جی ٹی روڈ، پشاور پر
دن 12 بجے کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ احتجاج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
سہیل خان آفریدی، صوبائی صدر پی ٹی آئی جنید اکبر خان، سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی
بابر سلیم سواتی اور دیگر پارٹی قیادت و کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف ہوگا۔ واضح
رہے کہ ابھی حکام نے ان گرفتاریوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔ عرفان سلیم نے پشاور کے
عوام، پارٹی کارکنان، تنظیمی عہدیداران، پارلیمنٹیرینز اور ٹکٹ ہولڈرز سے اپیل کی
ہے کہ وہ احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج پُرامن ہوگا اور اس
کا مقصد گورنر راج، ایمرجنسی کے نفاذ اور پارٹی قیادت کے خلاف کارروائیوں کے خلاف
آواز بلند کرنا ہے۔ بیان پاکستان تحریک انصاف، ضلع پشاور کی جانب سے جاری کیا گیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری
نے وفاقی کابینہ کی تجویز پر خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور صوبے کے 12 اضلاع میں
ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے صورت حال سے
متعلق رپورٹ جمع کرائے جانے کے بعد یہ اقدام کیا گیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں منتخب
صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کو منتقل ہوگئے ہیں جبکہ گورنر فیصل کریم کنڈی
عبوری کابینہ کے ذریعے صوبے کے انتظامی امور چلائیں گے۔ خیبرپختونخوا میں گورنر
راج کا یہ چوتھا موقع ہے، موجودہ صورت حال اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس کے ساتھ
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت 12 اضلاع میں ایمرجنسی بھی نافذ کی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا
میں اس سے قبل 1975، 1994 اور 1999 میں بھی گورنر راج نافذ کیا جا چکا ہے۔ صوبے کی
سیاسی تاریخ میں ان اقدامات کے پس منظر میں سیاسی کشیدگی، وفاق اور صوبے کے درمیان
اختلافات اور حکومتوں کی تبدیلی جیسے عوامل شامل رہے ہیں۔ موجودہ اقدام کے بعد
صوبے میں وفاقی حکومت کے انتظامی کردار، منتخب حکومت کے اختیارات اور امن و امان
کی صورت حال پر بحث شروع ہوگئی ہے۔
خیبرپختونخوا
میں پہلی مرتبہ 1975 میں اس وقت گورنر راج نافذ کیا گیا تھا جب وزیراعظم ذوالفقار
علی بھٹو کی وفاقی حکومت نے صوبے میں ایمرجنسی کا فیصلہ کیا۔ اس وقت نیشنل عوامی
پارٹی کے اہم رہنما حیات محمد خان شیرپاؤ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ میں تقریر
کے دوران بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد صوبے میں سیاسی صورت
حال کشیدہ ہوگئی، نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کی گئی اور گرفتاریاں بھی عمل
میں آئیں۔ اس دور کے واقعات نے صوبے کی سیاست اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات پر
گہرے اثرات مرتب کیے۔
صوبے میں
دوسری مرتبہ 1994 میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی
وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی
کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس وقت پیر صابر شاہ وزیراعلیٰ تھے۔ فراہم کردہ تاریخی تفصیلات
کے مطابق صوبائی حکومت کے خلاف سیاسی کارروائی کے دوران اسمبلی کے ارکان کی
غیرموجودگی اور تحریک عدم اعتماد کے واقعات سامنے آئے، جس کے بعد آفتاب احمد خان
شیرپاؤ نے صوبے میں حکومت قائم کی۔
خیبرپختونخوا
میں تیسری مرتبہ 1999 میں گورنر راج نافذ ہوا، جب جنرل پرویز مشرف نے فوجی اقدام
کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس کے بعد صوبائی انتظامی
ڈھانچے میں تبدیلیاں کی گئیں۔ مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے گورنر میاں گل
اورنگزیب کو عہدے سے ہٹا کر لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد شفیق کو گورنر مقرر کیا گیا
اور صوبے کے انتظامی اختیارات ان کے حوالے کیے گئے۔
لیفٹیننٹ
جنرل (ر) سید افتخار حسین کو صوبے کا گورنر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے اپنی تشکیل
کردہ کابینہ کے ساتھ صوبے کے انتظامی امور چلائے، یہاں تک کہ نومبر اور دسمبر 2002
میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہوئی۔ یوں صوبے میں گورنر راج کا سابقہ دور
منتخب حکومت کے قیام کے ساتھ ختم ہوا۔ اب چوتھی مرتبہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے
والے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی حکومت کو معطل کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا
ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی عبوری کابینہ کے ساتھ صوبے کا انتظام چلائیں گے۔ اس
فیصلے سے صوبائی حکومت کے اختیارات اور صوبے کے انتظامی معاملات میں بڑی تبدیلی
آئی ہے جبکہ سیاسی سطح پر اس اقدام کے خلاف ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔
موجودہ
گورنر راج کے ساتھ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبے کے 12 اضلاع میں
ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ ان اضلاع میں سابق قبائلی علاقوں کے 8 اضلاع خیبر،
مہمند، کرم، اورکزئی، باجوڑ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی
وزیرستان لوئر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں
اور لکی مروت کو بھی ایمرجنسی کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔
انتظامی
تقسیم کے مطابق بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژنز میں ایمرجنسی مکمل طور پر نافذ
ہوگی، جبکہ پشاور، کوہاٹ اور ملاکنڈ ڈویژنز میں اس کا نفاذ جزوی ہوگا۔ دوسری جانب
ہزارہ اور مردان ڈویژنز کو ایمرجنسی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اس طرح صوبے کے مختلف
حصوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دائرہ یکساں نہیں ہوگا۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج
اور 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ سے صوبائی انتظامی ڈھانچے میں اہم تبدیلی آئی
ہے۔ اس اقدام کے آئینی، سیاسی اور انتظامی اثرات آئندہ دنوں میں نمایاں ہونے کا
امکان ہے جبکہ صوبے میں امن و امان، منتخب حکومت کے اختیارات اور وفاقی و صوبائی
تعلقات اس فیصلے کے اہم پہلو رہیں گے۔