جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائچی نے کہا ہے کہ انہیں سرکاری
امور کی مصروفیات کے ساتھ گھر کے کام کاج بھی کرنا پڑتے ہیں۔جاپان کی پہلی خاتون
وزیراعظم سانائے تاکائچی نے بدھ کو پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبح
اٹھ کر نہاتی ہیں، ناشتہ تیار کرتی ہیں، برتن دھوتی ہیں اور میک اپ بھی کرتی ہیں۔
ان کے بقول، ان تمام کاموں میں انہیں مرد وزرائے اعظم کے مقابلے میں تین سے چار
گھنٹے زیادہ لگتے محسوس ہوتے ہیں۔تاکائچی خود کو کام کا جنونی قرار دیتی ہیں۔ وہ
اس سے قبل بتا چکی ہیں کہ وہ رات کو صرف دو سے چار گھنٹے سوتی ہیں اور بعض اوقات
عملے کے اجلاس رات تین بجے بھی رکھتی ہیں۔وزیراعظم کے وقت کے انتظام سے متعلق یہ
بحث اس وقت سامنے آئی جب حکمران اتحاد کے ایک رکن نے پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں
جاپانی وزرائے اعظم کے طویل وقت تک شرکت کرنے کے معمول پر سوال اٹھایا۔جاپان میں
وزیراعظم کو روزانہ پانچ سے سات گھنٹے تک پارلیمنٹ میں گزارنے پڑتے ہیں، جہاں
اپوزیشن ارکان ان سے سوالات کرتے ہیں یا وہ دیگر کارروائیوں میں شریک ہوتے
ہیں۔جاپان انوویشن پارٹی کے رکن پارلیمنٹ فومیتاکے فوجیتا نے ایک تحقیق کا حوالہ
دیتے ہوئے کہا کہ 2022 میں جاپانی وزیراعظم نے 72 دن پارلیمانی اجلاسوں میں شرکت
کی، جبکہ برطانیہ میں یہ تعداد 50 اور جرمنی میں 13 دن تھی۔ ان کے مطابق وزیراعظم
کا اتنے طویل وقت تک پارلیمنٹ میں مصروف رہنا عالمی معیار سے مطابقت نہیں
رکھتا۔تاکائچی نے کہا کہ وہ قانون سازی سے متعلق بحث کی اہمیت تسلیم کرتی ہیں،
تاہم کام کے بعد گھر لائی گئی دستاویزات اور پارلیمانی سوالات کی تیاری میں ان کا
وقت رات گئے تک صرف ہو جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں آدھی رات کو ان دستاویزات
کا مطالعہ کرنا اچھا لگتا ہے ، لیکن ملک کے مستقبل کی سمت اور اپنے وسیع تر وژن پر
یکسوئی کے ساتھ غور کرنے کے لئے وقت نکالنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
دوسرئ
جانب جاپانی وزیراعظم نے روس میں ایک جاپانی صحافی کی گرفتاری کے بعد ماسکو کے اس
الزام کی سختی سے تردید کی ہے کہ جاپان روسی سرزمین پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں
ملوث ہے۔ سانائے تاکائیچی نے کہا کہ
ایسا کوئی واقعہ نہیں ہے اور واضح کیا کہ جاپانی شہری کی حفاظت اس وقت حکومت کی
اولین ترجیح ہے۔ روسی سکیورٹی ادارے ایف ایس بی کے مطابق جاپانی صحافی یوکی
ایمائی، جو جاپانی اخبار ہوکائیڈو شمبن سے وابستہ ہیں، نے روس کی دفاعی صلاحیتوں
سے متعلق معلومات جمع کیں اور انہیں جاپانی انٹیلی جنس اداروں تک پہنچانے کی کوشش
کی۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ
صحافی کو مشرقی علاقے سخالین میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ روس سے روانہ
ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔ روس نے صحافی کو ماسکو منتقل کیا ہے اور ایک عدالت نے
انہیں تقریباً دو ماہ تک حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم جاپانی حکومت کا
کہنا ہے کہ اسے صحافی سے ابھی تک براہِ راست رابطہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ تحفہمنتخب کریں۔ ٹوکیو نے
روسی سفیر کو طلب کرکے صحافی کی گرفتاری پر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ اسے
منصفانہ اور غیر جانب دارانہ سلوک فراہم کیا جائے۔ جاپانی حکومت روس سے قونصلر
ملاقات کی اجازت بھی مانگ رہی ہے تاکہ صحافی کی صحت اور صورتحال کی تصدیق کی
جاسکے۔