امریکا میں آج مڈ ٹرم الیکشن
ہورہے ہیں جس میں امریکی ووٹرز ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے ارکان کے علاوہ ملک
کی مختلف ریاستوں کے گورنرز کا انتخاب کریں گے۔ ان انتخابات کے لیے ووٹنگ کئی ہفتے
قبل ہی شروع کردی گئی تھی اور اب تک بڑی تعداد میں ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی
استعمال کر چکے ہیں۔
امریکی مڈ ٹرم الیکشن امریکی صدر کی چار سالہ مدت کے درمیان منعقد
ہوتے ہیں اور ان میں صدر کا انتخاب نہیں ہوتا۔ تاہم اس سال کے انتخابات کی اہمیت
کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پیر تک 5 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افراد
’قبل از وقت‘ اپنے ووٹ کا حق استعمال کر چکے تھے۔ یونیورسٹی آف فلوریڈا کی الیکشن
لیب کے مطابق 2022 کے وسط مدتی انتخابات میں قبل از وقت ووٹ ڈالنے والے افراد کی
تعداد 4 کروڑ 60 لاکھ افراد تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال ووٹرز کی بڑی
تعداد ووٹنگ عمل میں شریک ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس بار انتخابات
امریکی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ غیر جانبدار ادارے
اوپن سیکرٹس کے اندازے کے مطابق امیدواروں اور دیگر سیاسی گروپس کی جانب سے
انتخابی مہم پر مجموعی طور پر 11 ارب 90 کروڑ ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ انتخابی مہم
میں کیے جانے والے اخراجات کے ریکارڈ کے مطابق ایلون مسک بھی تین ہفتے قبل تک
ریپبلکنز کی حمایت میں تقریباً 36 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ کر چکے تھے۔ تاہم عام طور
پر مڈ ٹرم الیکشن میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد صدارتی انتخابات کے مقابلے میں کم
ہوتی ہے۔
کانگریس کا کنٹرول
داؤ پر
مڈٹرم الیکشن میں ڈیموکریٹس کی کوشش ہے کہ وہ امریکی کانگریس کے
دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلیں۔ اس وقت ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کو 218 کے مقابلے میں 214
نشستوں کی برتری حاصل ہے۔ ایوان کی دو نشستیں خالی ہیں جبکہ ایک آزاد رکن بھی
ریپبلکنز کے ساتھ بیٹھتا ہے۔ ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو مزید
چار نشستیں جیتنا ہوں گی۔ سینیٹ میں بھی ریپبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں
کی اکثریت حاصل ہے۔ یہاں بھی ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے مزید چار
نشستیں درکار ہوں گی۔
رائٹرز کے مطابق 12 انتخابی مقابلے سینیٹ میں اکثریت کا فیصلہ کر
سکتے ہیں۔ ان میں کنساس اور ٹیکساس جیسی ریاستیں بھی شامل ہیں جہاں روایتی طور پر
ریپبلکنز کو حمایت حاصل رہی ہے۔
کیا مڈ ٹرم الیکشن عہدہ صدارت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں؟
وسط مدتی انتخابات عام طور پر اس سیاسی جماعت کے لیے مشکل ثابت
ہوتے ہیں جس کا صدر وائٹ ہاؤس میں ہو اور اسے کانگریس میں بھی اکثریت حاصل ہو۔ اس
بار اس صورت حال کا سامنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کو ہے جو اس وقت
امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں اکثریت رکھتی ہے۔ ان انتخابات کے
ذریعے ووٹرز صدر کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔
اگر نتائج صدر کی جماعت کے خلاف ہوں تو وائٹ ہاؤس کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی
کرنا پڑ سکتی ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے نتائج 2028 کے صدارتی انتخابات میں حصہ
لینے کے خواہش مند امیدواروں کے لیے بھی اہم اشارے فراہم کرتے ہیں۔ ان سے انہیں
اندازہ ہوتا ہے کہ ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے انتخابی پیغام میں کیا
تبدیلیاں کرنی چاہییں۔
رائے عامہ کے جائزے کیا بتاتے ہیں؟
رائٹرز اور اِپسوس کے سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت 32
فیصد رہ گئی ہے جو ریکارڈ کی کم ترین سطحوں کے قریب ہے۔ ملک میں اشیائے ضروریہ کی
بڑھتی ہوئی قیمتوں جیسے مسائل کئی انتخابی حلقوں کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتے
ہیں اور ریپبلکنز کی حمایت میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ رواں سال فروری میں جب
ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کرنے کا فیصلہ کیا
تو اُن کی عوامی مقبولیت تقریباً 42 فیصد کے قریب تھی، تاہم اس کے فوراً بعد یہ
شرح 40 فیصد سے بھی نیچے چلی گئی اور اس وقت اُن کی مقبولیت تقریباً 32 فیصد کے لگ
بھگ ہے۔ 8 سال قبل اپنی پہلی صدارتی مدت کے اِسی مرحلے پر (یعنی مڈ ٹرم کے قریب)
ٹرمپ کی مقبولیت 43 فیصد تھی، جو موجودہ شرح سے نمایاں طور پر زیادہ تھی۔ اُسی
مرحلے پر جو بائیڈن کی مقبولیت 40 فیصد تھی۔
دوسری جانب یونیورسٹی آف فلوریڈا کی الیکشن لیب کے مطابق ڈیموکریٹس
اس سال ووٹ ڈالنے کے لیے ریپبلکنز کے مقابلے میں زیادہ پُرجوش دکھائی دے رہے ہیں
اور ان میں سے زیادہ افراد پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں
ٹرمپ کی حمایت کرنے والے لاطینی امریکی نژاد ووٹرز اب ان کی معاشی اور امیگریشن
پالیسیوں سے خائف نظر آتے ہیں اور ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کی طرف مائل ہو سکتے
ہیں۔ تاہم ڈیموکریٹس کی بھاری اکثریت سے کامیابی بھی یقینی نہیں کیونکہ کہا جارہا
ہے کہ ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس کے بارے میں بعض ووٹرز کے تحفظات، انتخابی مہم پر
زیادہ اخراجات کرنے کی صلاحیت اور بائیں بازو کے امیدواروں کی پرائمری انتخابات
میں بعض کامیابیوں پر معتدل مزاج ووٹرز کی تشویش سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ماضی میں کیا ہوتا رہا؟
ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مڈ ٹرم الیکشن نتائج امریکی سیاست پر
گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ 2010 میں بارک اوباما کے دور صدارت میں ریپبلکنز نے
مڈ ٹرم الیکشن میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان میں 63 اضافی
نشستیں حاصل کر لی تھیں۔ اس وقت امریکی معیشت توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا
رہی تھی جبکہ اوباما کے صحت سے متعلق اصلاحاتی قانون کو بھی عوامی حمایت حاصل نہیں
تھی۔ انتخابی نتائج کے بعد ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اپنی اکثریت کھو بیٹھے
تھے۔ لیکن دوسری جانب سینیٹ میں چھ نشستیں کھونے کے باوجود وہ اپنا کنٹرول برقرار
رکھنے میں کامیاب رہے۔
اوباما نے ریپبلکنز کی اس کامیابی کو ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا
تھا۔ اس کے بعد انہیں ریپبلکنز کی جانب سے دفاع کے علاوہ دیگر شعبوں کے اخراجات
میں نمایاں کمی کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی طرح 2018 میں ڈیموکریٹس نے
بھی ٹرمپ کے دورِ صدارت میں ایوانِ نمائندگان کی 40 نشستوں کا اضافہ کرکے ریپبلکنز
کو جواب تو دیا تھا مگر وہ سینیٹ میں دو نشستیں کھو بیٹھے تھے۔ اس سال 50 میں سے
36 ریاستوں میں گورنر کے انتخابات بھی ہو رہے ہیں جبکہ تقریباً تمام ریاستوں میں
قانون ساز اداروں کی نشستوں کے لیے بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ بیلٹ پیڈیا کے مطابق اس
وقت ملک بھر میں ریاستی قانون ساز اداروں کی 55 فیصد نشستیں ریپبلکنز جبکہ 43.8
فیصد نشستیں ڈیموکریٹس کے پاس ہیں۔
ایوانِ نمائندگان کا نیا اسپیکر کون ہوگا؟
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو
نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رہنما حکیم جیفریز نئے اسپیکر بن سکتے ہیں۔
وہ اس وقت ایوان میں ڈیموکریٹس کے رہنما ہیں۔ حکیم جیفریز اس اہم عہدے پر فائز
ہونے والے پہلے سیاہ فام امریکی ہوں گے۔ امریکی نائب صدر کے بعد اسپیکر صدارتی
جانشینی میں دوسرے نمبر پر ہوتا ہے۔ اسپیکر منتخب ہونے کی صورت میں جیفریز کو
ایوان کی کمیٹیوں کے ذریعے صدر ٹرمپ اور ان کے قریبی ساتھیوں کے مختلف متنازع
اقدامات کی تحقیقات شروع کرانے کا اختیار حاصل ہوگا۔ جیفریز متعدد بار کہہ چکے ہیں
کہ ڈیموکریٹس ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں ہونے والی ان سرگرمیوں کی تحقیقات کریں گے
جنہیں وہ بدعنوانی کی غیر معمولی سطح قرار دیتے ہیں۔
وہ ایوان میں ڈیموکریٹس کی قانون سازی کی ترجیحات بھی طے کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس صحت کی سہولیات، اشیائے خورونوش، رہائش، توانائی اور
دیگر ضروریاتِ زندگی کے اخراجات کم کرنے پر توجہ دیں گے۔
دوسری
جانب ریپبلکنز کی کامیابی کی صورت میں اسپیکر کا عہدہ اسی جماعت کے پاس رہے گا۔
موجودہ اسپیکر مائیک جانسن اس عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں یا انہیں چیلنج کرنے
والے کسی دوسرے ریپبلکن رہنما کو یہ ذمہ داری مل سکتی ہے۔ ریپبلکنز کی ترجیحات میں
مزید ٹیکس چھوٹ، دفاعی اخراجات میں بڑے پیمانے پر اضافہ اور سماجی بہبود کے
پروگراموں کے لیے مختص رقوم میں مزید کمی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ ترجیحات ٹرمپ کے
2025 کے قانون ’ون بگ بیوٹی فل بل‘ پر مبنی ہوں گی۔
اہم انتخابی حلقے
ایوانِ
نمائندگان کے جن انتخابی حلقوں پر سب سے زیادہ نظر رکھی جا رہی ہے ان میں نیویارک
سے ریپبلکن رکن کانگریس مائیک لالر کا دوبارہ انتخاب بھی شامل ہے۔ ان کا انتخابی
حلقہ ایسا ہے جہاں 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس نے
کامیابی حاصل کی تھی۔ ایک اور اہم مقابلہ نیبراسکا کے ایک ایسے حلقے میں ہو رہا ہے
جہاں نشست خالی ہے۔ اس علاقے کے کسانوں اور ٹرک ڈرائیوروں کو ایران کے خلاف امریکی
جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سامنا ہے۔ ڈیموکریٹس کی ترجیحات
میں پنسلوانیا کے دو اور نیو جرسی کا ایک انتخابی حلقہ بھی شامل ہے جہاں وہ
ریپبلکنز سے نشستیں چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان
انتخابات کے دوران یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا صدر ٹرمپ انتخابی عمل میں مداخلت کی
کوشش کریں گے یا نہیں۔ امریکا میں انتخابات کا انتظام تمام 50 ریاستیں الگ الگ
کرتی ہیں۔ 2020 کے بعد سے ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ امریکی انتخابات
میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوتی ہے تاہم اپنے دعوؤں کے حق میں انہوں نے اب تک کوئی
ثبوت پیش نہیں کیا۔ رائٹرز کے مطابق الیکشن اتھارٹیز اور کانگریس میں موجود
ڈیموکریٹس اس امکان کے پیش نظر قانونی تیاریوں میں مصروف ہیں کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ
نے انتخابی عمل میں مداخلت کی کوشش کی تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکے۔